بدھ، 25 اکتوبر، 2017

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا ۔ ۔ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

رات بھر طالعِ بیدار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
خاک پر سنگِ درِ یار نے سونے نہ دیا

دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح

شادیِ دولتِ دیدار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
ایک شب بلبلِ بے تاب کے جاگے نہ نصیب

پہلوئے گُل میں کبھی خار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
جب لگی آنکھ ، کراہا یہ کہ بد خواب کیا

نیند بھر کر دلِ بیمار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
دردِ سرِ شام سے اس زلف کے سودے میں رہا

صبح تک مجھ کو شبِ تار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
رات بھر کیں دلِ بے تاب نے باتیں مجھ سے

رنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
سیلِ گریہ سے مرے نیند اڑی مردم کی

فکرِ بام و در و دیوار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
باغِ عالم میں رہیں خواب کی مشتاق آنکھیں

گرمیِ آتشِ گلزار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
سچ ہے غم خواریِ بیمار عذابِ جاں ہے

تا دمِ مرگ دلِ زار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔
تکیہ تک پہلو میں اس گُل نے نہ رکھا آتش

غیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا
۔ ۔ ۔

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا ۔ ۔ حید علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
۔ ۔ ۔
کیا کیا اُلجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے

بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا؟
۔ ۔ ۔
زیرِ زمین سے آتا ہے جو گل سو زر بکف

قاروں نے راستے میں خزانہ لٹایا کیا؟
۔ ۔ ۔
چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر

دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
۔ ۔ ۔
طبل و عَلم ہے پاس نہ اپنے ہے ملک و مال

ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
۔ ۔ ۔
صّیاد گُل عذار دکھاتا ہے سیرِ باغ

بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا
۔ ۔ ۔
یوں مدّعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے

آتِش غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
۔ ۔ ۔

ہے جب سے دستِ یار میں ساغر شراب کا ۔ ۔ حید علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

ہے جب سے دستِ یار میں ساغر شراب کا

کوڑی کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کا
۔ ۔ ۔
صیاد نے تسلیِ بلبل کے واسطے

کنجِ قفس میں حوض بھرا ہے، گلاب کا
۔ ۔ ۔
دریائے خوں کیا ہے تری تیغ نے رواں

حاصل ہوا ہے رتبہ سروں کو، حباب کا
۔ ۔ ۔
جو سطر ہے، وہ گیسوئے حورِ بہشت ہے

خالِ پری ہے نقطہ، ہماری کتاب کا
۔ ۔ ۔
نور آسماں ہیں صفحۂ اوّل کے نو لغت

کونین، اک دو ورقہ ہے اپنی کتاب کا
۔ ۔ ۔
اے موجِ بے لحاظ، سمجھ کر مٹائیو

دریا بھی ہے اسیرِ طلسمِ حباب کا
۔ ۔ ۔
اک ترک شہسوار کی دیوانی روح ہے

زنجیر میں ہمارے ہو لوہا رکاب کا
۔ ۔ ۔
حسن و جمال سے ہے زمانے میں روشنی

شب ماہتاب کی ہے، تو روز آفتاب کا
۔ ۔ ۔
اللہ رے ہمارا تکلّف، شبِ وصال

روغن کے بدلے عطر جلایا گلاب کا
۔ ۔ ۔
مسجد سے مے کدے میں مجھے نشّہ لے گیا

موجِ شرابِ جادہ تھی، راہِ ثواب کا
۔ ۔ ۔
انصاف سے وہ زمزمہ میرا اگر سنے

دم بند ہووے طوطیِ حاضر جواب کا
۔ ۔ ۔
الفت جو زلف سے ہے دلِ داغ دار کو

طاؤس کو یہ عشق نہ ہو گا سحاب کا
۔ ۔ ۔
معمور جو ہوا عرقِ رخ سے وہ ذقن

مضمون مل گیا مجھے چاہِ گلاب کا
۔ ۔ ۔
پاتا ہوں ناف کا کمرِ یار میں مقام

چشمہ مگر عدم میں ہے گوہر کی آب کا
۔ ۔ ۔
آتش شبِ فراق میں پوچھوں گا ماہ سے

یہ داغ ہے دیا ہوا کس آفتاب کا؟
۔ ۔ ۔

حشر کو بھی دیکھنے کا اُسکے ارما‌ں رہ گیا ۔ ۔ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

حشر کو بھی دیکھنے کا اُسکے ارما‌ں رہ گیا

دن ہوا پر آفتاب آنکھوں سے پنہاں رہ گیا
۔ ۔ ۔
دوستی نبھتی نہیں ہرگز فرو مایہ کے ساتھ

روح جنت کو گئی جسمِ گِلی یاں رہ گیا
۔ ۔ ۔
چال ہے مجھ ناتواں کی مرغِ بسمل کی تڑپ

ہر قدم پر ہے یقین ، یاں رہ گیا، واں رہ گیا
۔ ۔ ۔
کر کے آرایش، جو دیکھی اُس صنم نے اپنی شکل

بند آنکھیں ہو گئیں، آئینہ حیراں رہ گیا
۔ ۔ ۔
کھینچ کر تلوار قاتل نے کیا مجھ کو نہ قتل

شکر ہے گردن تک آتے آتے احساں رہ گیا
۔ ۔ ۔
شامِ ہجراں صبح بھی کر کے نہ دیکھا روزِ وصل

سانپ کو کچلا پر آتش ، گنج پنہاں رہ گیا
۔ ۔ ۔

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا ۔ ۔ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا

خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا
۔ ۔ ۔
امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک

نہ اک مُو کم ہوا اپنا ، نہ اک تارِ کفن بگڑا
۔ ۔ ۔
لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
۔ ۔ ۔
بناوٹ کیفِ مے سے کھُل گئی اُس شوخ کی آتش

لگا کر مُنہ سے پیمانے کو، وہ پیمان شکن بگڑا
۔ ۔ ۔

طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا ۔ ۔ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا

یہی وہ راہ ہے جس میں ہے جان کا کھٹکا
۔ ۔ ۔
نہ بوریا بھی میسّر ہوا بچھانے کو

ہمیشہ خواب ہی دیکھا کیے چھپر کھٹ کا
۔ ۔ ۔
شبِ فراق میں اُس غیرتِ مسیح بغیر

اُٹھا اُٹھا کے مجھے، دردِ دل نے دے پٹکا
۔ ۔ ۔
پری سے چہرہ کو اپنے وہ نازنیں دکھلائے

حجاب دور ہو، ٹوٹے طلسم گھونگھٹ کا
۔ ۔ ۔
شراب پینے کا کیا ذکر، یار بے تیرے

پیا جو پانی بھی ہم نے تو حلق میں اٹکا
۔ ۔ ۔
چمن کی سیر میں سنبل سے پہلوانی کی

چڑھا کے پیچ پہ اُن گیسوؤں نے دے پٹکا
۔ ۔ ۔
کبھی تو ہو گا ہمارے بھی یار پہلو میں

کبھی تو قصد کرے گا زمانہ کروٹ کا
۔ ۔ ۔
بس اپنی مستی کو گردش ہے چشم ساقی کی

ہمارا پیٹ نہیں‌ہے شراب کا مٹکا
۔ ۔ ۔
نہ پھول، بیٹھ کے بالائے سرو، اے قمری

چڑھے جو بانس کے اوپر یہ کام ہے نٹ کا
۔ ۔ ۔
عجب نہیں ہے جو سودا ہو شعر گوئی سے

خراب کرتا ہے آتش زبان کا چٹکا
۔ ۔ ۔

آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست ۔ ۔ حید علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست

بیمار سال بھر کے نظر آئیں تندرست
۔ ۔ ۔
حالِ شکستہ کا جو کبھی کچھ بیان کیا

نکلا نہ ایک اپنی زباں سے سخن درست
۔ ۔ ۔
رکھتے ہیں آپ پاؤں کہیں پڑتے ہیں کہیں

رفتار کا تمہاری نہیں ہے چلن درست
۔ ۔ ۔
جو پہنے اُس کو جامۂ عریانی ٹھیک ہو

اندام پر ہر اک کے ہے یہ پیرہن درست
۔ ۔ ۔
آرائشِ جمال کو مشاطہ چاہیئے

بے باغبان کے رہ نہیں سکتا چمن درست

آئینہ سے بنے گا رُخِ یار کا بناؤ
۔ ۔ ۔
شانے سے ہو گی زلفِ شکن در شکن درست

کم، شاعری بھی نسخۂ اکسیر سے، نہیں،

مستغنی ہو گیا جسے آیا یہ فن درست
۔ ۔ ۔
آتش! وہی بہار کا عالم ہے باغ میں

تا حال ہے دماغِ ہوائے چمن درست
۔ ۔ ۔

مرے دل کو شوقِ فغاں نہیں، مرے لب تک آتی دعا نہیں ۔ ۔ حید علی آتش

 خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

مرے دل کو شوقِ فغاں نہیں، مرے لب تک آتی دعا نہیں

وہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں، وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں
۔ ۔ ۔ 
نہ تجھے دماغِ نگاہ ہے، نہ کسی کو تابِ جمال ہے

انہیں کس طرح سے دکھاؤں میں، وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں
۔ ۔ ۔
کسے نیند آتی ہے اے صنم، ترے طاقِ ابرو کی یاد میں

کبھی آشنائے تہِ بغل، سرِ مرغِ قبلہ نما نہیں
۔ ۔ ۔
عجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیالِ دشمن و دوست میں

وہ مقام ہوں کہ گزر نہیں، وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں
۔ ۔ ۔
یہ خلاف ہو گیا آسماں، یہ ہوا زمانہ کی پھر گئی

کہیں گُل کھلے بھی تو بُو نہیں، کہیں حسن ہے تو وفا نہیں
۔ ۔ ۔
مرضِ جدائیِِ یار نے، یہ بگاڑ دی ہے ہماری خُو

کہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں
۔ ۔ ۔
مجھے زعفران سے زرد تر غمِ ہجرِ یار نے کر دیا

نہیں ایسا کوئی زمانہ میں، مرے حال پر جو ہنسا نہیں
۔ ۔ ۔
مرے آگے اس کو فروغ ہو ، یہ مجال کیا ہے رقیب کی

یہ ہجومِ جلوۂ یار ہے ، کہ چراغِ خانہ کو جا نہیں
۔ ۔ ۔
چلیں گو کہ سینکڑوں آندھیاں ، جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلک

بھڑک اٹھے آتشِ طور پھر، کوئی اس طرح کی دوا نہیں
۔ ۔ ۔

تا صبح نیند آئی نہ دم بھر تمام رات ۔ ۔ حیدر علی آتش

 خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

تا صبح نیند آئی نہ دم بھر تمام رات

نو چکیّاں چلیں مرے سر پر تمام رات
۔ ۔ ۔
اللہ رے صبح عید کی اُس حور کی خوشی

شانہ تھا اور زلفِ معنبر تمام رات
۔ ۔ ۔
کھولے بغل کہیں لحدِ تیرہ روزگار

سویا نہیں کبھی میں لپٹ کر تمام رات
۔ ۔ ۔
کنڈی چڑھا کے شام سے وہ شوخ سو رہا

پٹکا کیا میں سر کو پسِ در تمام رات
۔ ۔ ۔
راحت کا ہوش ہے کسے آتش بغیر یار؟

بالیں ہیں خشت ، خاک ہے بستر تمام رات
۔ ۔ ۔

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے ۔ ۔ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش اردو لفظ شاعری

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے

خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے

بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طفلی

ہنوز حسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں

نہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
طریقِ عشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط

کہیں چڑھاؤ کسی جا اتار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
طریقِ عشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن

ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
جگہ ہے رحم کی یار ایک ٹھوکر اس کو بھی

شہیدِ ناز کا ترے مزار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش

عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
نہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے

فقط عنایتِ پروردگار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی

بہت سی گرد بہت سا غبار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ

ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
جنوں میں خاک اڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے

شریکِ حال ہمارا غبار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
کوئی تو دوش سے بارِ سفر اتارے گا

ہزار رہزنِ امیدوار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے

خدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
بہت سی ٹھوکریں کھلوائے گا یہ حسن اُن کا

بتوں کا عشق نہیں کوہسار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
پتا یہ کوچۂ قاتل کا سن رکھ اے قاصد

بجائے سنگِ نشاں اِک مزار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
پیادہ پا ہوں رواں سوئے کوچۂ قاتل

اجل مری مرے سر پر سوار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک

خوشا نصیب وہ جو جو شکار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش

گُلِ مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
۔ ۔ ۔