- اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi شعر و شاعری کی دُنیا میں خوش آمدید
بدھ، 2 مئی، 2018
منگل، 1 مئی، 2018
منگل، 7 نومبر، 2017
ہفتہ، 4 نومبر، 2017
یہ رعنائی جو آنکھوں کے لیئے سامان ِ جَلوہ ہے ۔ ۔جون ایلیاء
یہ رعنائی جو آنکھوں کے لیئے سامان ِ جَلوہ ہے
لباس ِ مُفلِسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پَروَردہ
یہ لڑکی ، فاقہ کَش ہوتی، تو بد صورت نظر آتی
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
جون ایلیاء
پیر، 23 اکتوبر، 2017
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداع ۔ ۔ جون ایلیاء
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداع
تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع
۔۔۔
میں تیرے ساتھ بُجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع! میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع
۔۔۔
میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع
۔۔۔
اِک رودِ نا شناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع
۔۔۔
خود اپنی اک متاعِ زبوں رہ گیا ہوں میں
سو الوداع، اے مرے سامان الوداع
۔۔۔
سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع
۔۔۔
اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع
۔۔۔
کِس کِس کو ہے علاقہ یہاں اپنے غیر سے
انسان ہوں میں ، تُو بھی ہے انسان الوداع
۔۔۔
نسبت کسی بھی شہ سے کسی شے کو یاں نہیں
ہے دل کا ذرہ ذرہ پریشان الوداع
۔۔۔
رشتہ مرا کوئی بھی الف ، بے سے اب نہیں
امروہا الوداع سو اے بان الوداع
۔۔۔
اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے کفر ، اے مرے ایمان الوداع
۔۔۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
جون ایلیاء
تم نے کیسے بُھلا دیا ہم کو ۔ ۔ جون ایلیاء
تم نے کیسے بُھلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
۔۔۔
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
۔۔۔
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
۔۔۔
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
۔۔۔
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
۔۔۔
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو
۔۔۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
جون ایلیاء
آپ اپنا غبار تھے ہم تو ۔ ۔ جون ایلیاء
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
۔۔۔
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
۔۔۔
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
۔۔۔
اُڑتے جاتے ہیں دھُول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
۔۔۔
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
۔۔۔
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
۔۔۔
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
۔۔۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
جون ایلیاء
ہونے کا دھوکا ہی تھا ۔ ۔ جون ایلیاء
ہونے کا دھوکا ہی تھا
جو کچھ تھا وہ تھا ہی تھا
۔۔۔
اب میں شاید تہہ میں ہوں
پر وہ کیا دریا ہی تھا
۔۔۔
بُود مری ایسی بِکھری
بس میں نے سوچا ہی تھا
۔۔۔
بھُولنے بیٹھا تھا میں اُسے
چاند ابھی نِکلا ہی تھا
۔۔۔
ہم کو صنم نے خوار کیا
ورنہ خدا اچھا ہی تھا
۔۔۔
کیسا ازل اور کیسا ابد
جس دَم تھا لمحہ ہی تھا
۔۔۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
جون ایلیاء
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے ۔ ۔ جون ایلیاء
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
۔۔۔
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
۔۔۔
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
۔۔۔
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
۔۔۔
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
۔۔۔
لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا
ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے
۔۔۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
جون ایلیاء
