پیر، 13 نومبر، 2017

کسی موسم ہوا سے دوستی آغاز کرتے ۔ ۔ جلیل عالی

Jalil Aali Urdulafz Poetry

کسی موسم ہوا سے دوستی آغاز کرتے

پرندے دشت کے سارے شجر ہمراز کرتے
۔ ۔ ۔
اک اوجِ شوق سے گر دیکھتے اِس شہرِ جاں کو

مناظر حیرتوں کے اور ہی در باز کرتے
۔ ۔ ۔
فروزاں تھے لہو میں درد کے مہتاب جتنے

سب اُس کے عکس تھے کس سے کسے ممتاز کرتے
۔ ۔ ۔
بجھا کر آفتاب اب اس کا ماتم کر رہے ہیں

گہن تو اک ذرا سا تھا نظر انداز کرتے
۔ ۔ ۔
یہیں ان وادیوں کی گونج بنتے گیت اپنے

انہی خاموش جذبوں کو جو ہم آواز کرتے
۔ ۔ ۔
کوئی تو سطر عالی کہکشاں صورت چمکتی

کہیں تو سحر کوئی پھونکتے اعجاز کرتے
۔ ۔ ۔