ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

دن رات میکدے میں گزرتی تھی زندگی ۔ ۔ اختر شیرانی

اختر شیرانی اردو لفظ شاعری

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے؟

وہ عمر کیا ہوئی ، وہ زمانے کدھر گئے؟ 
---
ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا

وہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے؟
---
تھے وہ بھی کیا زمانے کہ رہتے تھے ساتھ ہم

وہ دل کہاں ہیں اب وہ زمانے کدھر گئے؟ 
---
ہے نجد میں سکوت ، ہواؤں کو کیا ہوا؟

لیلائیں ہیں خموش دِوانے کدھر گئے؟
---
صحرا و کوہ سے نہیں اُٹھتی صدائے درد

وہ قیس و کوہکن کے ٹھکانے کدھر گئے؟ 
---
وہ چاندنی چھلکتی ہوئی چشمہ سار میں

وہ راتیں اور سمے وہ سہانے کدھر گئے؟
---
اُجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی 

سُونے ہیں کوہسار دِوانے کدھر گئے 
---
وہ ہجر میں وصال کی اُمّید کیا ہوئی 

وہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے
---
غیروں سے تو اُمیدِ وفا پہلے ہی نہ تھی

رونا یہ ہے کہ اپنے بیگانے کدھر گئے 
---
دن رات میکدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے
---

ہزار ضبط کروں ، زار زار روتا ہوں ۔ ۔ اختر شیرانی

اختر شیرانی اردو لفظ شاعری

ہزار ضبط کروں ، زار زار روتا ہوں

کسی کی یاد میں بے اختیار روتا ہوں

مثالِ برقِ فروزاں جنوں میں ہنستا ہوں

برنگِ دیدۂ ابرِ بہار روتا ہوں

کسی کی یاد میں آنسو بہائے تھے نہ کبھی


میں آج کیوں میرے پروردگار روتا ہوں

مآلِ بزم شبانہ کا داغ ہے دل پر

چراغِ صبح ہوں، بے اختیار روتا ہوں