اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے؟
وہ عمر کیا ہوئی ، وہ زمانے کدھر گئے؟
---
ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا
وہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے؟
---
تھے وہ بھی کیا زمانے کہ رہتے تھے ساتھ ہم
وہ دل کہاں ہیں اب وہ زمانے کدھر گئے؟
---
ہے نجد میں سکوت ، ہواؤں کو کیا ہوا؟
لیلائیں ہیں خموش دِوانے کدھر گئے؟
---
صحرا و کوہ سے نہیں اُٹھتی صدائے درد
وہ قیس و کوہکن کے ٹھکانے کدھر گئے؟
---
وہ چاندنی چھلکتی ہوئی چشمہ سار میں
وہ راتیں اور سمے وہ سہانے کدھر گئے؟
---
اُجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی
سُونے ہیں کوہسار دِوانے کدھر گئے
---
وہ ہجر میں وصال کی اُمّید کیا ہوئی
وہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے
---
غیروں سے تو اُمیدِ وفا پہلے ہی نہ تھی
رونا یہ ہے کہ اپنے بیگانے کدھر گئے
---
دن رات میکدے میں گزرتی تھی زندگی
اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے
---

