پیر، 23 اکتوبر، 2017

ایک لڑکی ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

ایک لڑکی

دنیا جب رب رب کرتی ہے 

ہم کو گھائل کرتی ہے

جن میں رسوائی نہیں ہوتی

ایسے کام وہ کب کرتی ہے 

نام کسی کا لے کر مجھ سے 

آٹو گراف طلب کرتی ہے 

مطلب کی باتوں کے علاوہ

باتیں ہم سے سب کرتی ہے 

جن سے اس کا دل نہیں ملتا 

ان کا صرف ادب کرتی ہے 

اک لڑکی گل بوٹوں والی

باغ کی سیر بھی اب کرتی ہے 

دیکھیں، اپنی نظر عنایت

کس ٹہنی پر کب کرتی ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

اتوار، 22 اکتوبر، 2017

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ ۔ ۔ اعبتار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ
۔۔۔
فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے!

ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ
۔۔۔
گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر

اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ
۔۔۔
اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا

دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی اس رات کے ساتھ
۔۔۔
تم وہی ہو کہ جو پہلے تھے مری نظروں میں

کیا اضافہ ہوا ان اطلس و بانات کے ساتھ
۔۔۔
اتنا پسپا نہ ہو، دیوار سے لگ جائے گا 

اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ
۔۔۔
بھیجتا رہتا ہے گمنام خطوں میں کچھ پھول

اس قدر کس کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ
۔۔۔
اعتبار ساجد

مزاج مختلف ہیں چارہ گر،جوہیں میسر ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

مزاج مختلف ہیں چارہ گر،جوہیں میسر

مگر تنہائی ہر لمحہ رفاقت چاہتی ہے 
۔۔۔
یہ سناٹا تو جاں لیوا ہے اب دیوارو در کا 

کسی سے بات کرنے کو طبیعت چاہتی ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

مگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہے ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

مگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہے

نجانے آج کل وہ کیسے معمولات رکھتا ہے
۔۔۔
اثاثہ اس کے کمرے کا ہیں کچھ مغموم آوازیں

درازوں میں مقفل ہجر کے نغمات رکھتا ہے 
۔۔۔
ہماری گفتگو کس روز کس منزل پہ پہنچی تھی

بلا کا حافظہ ہے یاد وہ ہر بات رکھتا ہے 
۔۔۔
اگر نالاں ہوں میں اس سے تو وہ بھی خوش نہیں مجھ سے 

مرے جیسے ہی وہ میرے لیے جذبات رکھتا ہے
۔۔۔
بہت گہرا ہے ،اس کی ظاہری حالت پہ مت جانا

وہ سینے میں پہاڑوں سے بڑے صدمات رکھتا ہے 
۔۔۔
اسے کیا چاند سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ساجد

وہ اپنی کھڑکیوں کیو بند کیوں دن رات رکھتا ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

جانے کس چاہ کے، کس پیار کے گن گاتے ہو ۔ ۔ اعتبار ساجد

 اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

جانے کس چاہ کے، کس پیار کے گن گاتے ہو

رات دن کونسے دلدار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
یہ تو دیکھو کہ تمہیں لوٹ لیا ہے اس نے

اک تبسم پہ خریدار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
اپنی تنہائی پہ نازاں ہو مرے سادہ مزاج!

اپنے سونے در و دیوار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
اپنے ہی ذہن کی تخلیق پہ اتنے سرشار!

اپنے افسانوی کردار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
عمر بھر ساتھ نبھائے گا بھلا تم سے کوئی ؟

کاہے مہمان اداکار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
اور لوگوں کے بھی گھر ہوتے ہیں گھر والے بھی

صرف اپنے در و دیوار کے گن گاتے ہو
۔۔۔
اعتبار ساجد

گر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گی ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

گر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گی

تیرے میرے درمیان دیوار بڑھتی جائے گی 
۔۔۔
اس طرف رہ جائے گا تو اور ادھر میں بیچ میں

اک سڑک پر بھیڑ کی رفتار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
جیسے جیسے ترس آتا جائے گا خود پر ہمیں

ویسے ویسے لذت آزار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
میرے گونگے حرف کا پتھر ترے کام آئے گا

اور بھی تیغ زباں کی دھار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
جتنے اپنے زخم دنیا کو دکھاتے جاؤ گے 

دل میں اتنی خواہش غمخوار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
مت محبت مانگ اس سے قرض خواہوں کی طرح

اور اس کی شدت انکار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
ہات لہراتا ہوا وہ جائے گا تنہا کوئی 

رفتہ رفتہ ریل کی رفتار بڑھتی جائے گی
۔۔۔
اعتبار ساجد

بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں

کہ ہم کرتے ہیں سمجھوتوں کا کاروبار آپس میں
۔۔۔
کبھی ٹکرا بھی جاتے ہیں جو برتن ساتھ رہتے ہیں

ہماری ہو بھی جاتی ہے کبھی تکرار آپس میں
۔۔۔
یہاں دو سوختہ دل بھی اکٹھے رہ نہیں پاتے

جڑے رہتے ہیں لیکن سینکڑوں کہسار آپس میں
۔۔۔
بہت روئیں گے سناٹے ،یہ گھر جب چھوڑ جاؤ گے

بہت باتیں کریں گے یہ در و دیوار آپس میں
۔۔۔
انا کو بیچ میں آئندہ ہم آنے نہیں دیں گے

یہ طے کر لیں کھلے دل سے چلو اک بار آپس میں
۔۔۔
وہی نازک گھڑی ہوتی ہے ساجد پر زمانے کی

جگہیں تبدیل جب کرتے ہیں پہرے دار آپس میں
۔۔۔
اعتبار ساجد

آخر ہم نے کب دینے والے کا رزق حلال کیا ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

آخر ہم نے کب دینے والے کا رزق حلال کیا

اک دو غزلیں کہہ ڈالیں تو کونسا ایسا کمال کیا
۔۔۔
موتی کا اک ہار لپیٹے اپنے کالے جوڑے میں

خوشبو جیسی اس لڑکی نے ایسا استقبال کیا
۔۔۔
صبح ہوئی پلکوں سے چلتے اس کو ہونٹوں کی کلیاں

رات کسی نے روشن دے کر ایسا مالا مال کیا
۔۔۔
ریل سے اتری پلٹ کے دیکھا اور پھر آگے نکل گئی

اک بے نام تعارف والی! تو نے اور نڈھال کیا
۔۔۔
اپنے گھر والوں میں بیٹھی کتنی چہک رہی ہوگی وہ

جس کے فرض ہجر میں ہن نے اپنا شکستہ حال کیا
۔۔۔
صبح کو شام کیا مرمر کے،پھر بھی نہ غم کے پتھر سرکے

اک دو روز کی بات نہیں ہے ایسا سالہا سال کیا
۔۔۔
اپنی بانہوں کی زنجیر میں اک رہرو کو باندھ لیا

اک ٹوٹا ہوا رشتہ ساجد ہم نے ایسے بحال کیا
۔۔۔
اعتبار ساجد

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو

کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں

کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
دل و دماغ سے گھائل ہیں تیرے ہجر نصیب

شکستہ در بھی ہیں ان کی چھتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
تم اعتبار پریشان بھی ان دنوں ہو بہت

دکھائی پڑتا ہے ،کچھ صحبتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
قلم اٹھا کے چلو حال دل ہی لکھ دالو

کہ رات دن کی بہت فرقتیں بھی ٹھیک نہیں
۔۔۔
اعتبار ساجد

چاندی رات میں ہوا کا جھونکا ٹکرایا چوباروں سے ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

چاندی رات میں ہوا کا جھونکا ٹکرایا چوباروں سے 

چند شکستہ زینوں سے اور کچھ گرتی دیواروں سے
۔۔۔
آؤ کھلی محراب کے نیچے بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں

دل کو وحشت سی ہوتی ہے گھٹے گھٹے بازاروں سے 
۔۔۔
میں نے اپنا کمرہ نچلی منزل پر تبدیل کیا 

ہوٹل کی کھڑکی اونچی تھی ،مسجد کے میناروں سے
۔۔۔
رات نمائش گاہ میں گملے بھی موجود تھے پھولوں کے 

تازہ خون کی بو آتی تھی لیکن کچھ فن پاروں سے 
۔۔۔
ان پہ کبوتر سر نیوڑھائے بیٹھے ہیں خاموش ملول 

کل اس شہر کی رونق تھی جن مرمر کے فواروں سے 
۔۔۔
ایسی قیامت کی سردی میں چاند سے باتیں کون کرے 

آؤ ہم اپنی رات گذاریں لفظوں کے انگاروں سے
۔۔۔
اعتبار ساجد

ویسا چاند نہ مانگو ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

ویسا چاند نہ مانگو

ویسا چاند نہ مانگو

نہیں!

یہ میرا چاند نہیں

اتنا دھندلا

اتنا ماند

میرا چاند؟

نہیں یہ میرا چاند نہیں

یہ تو کوئی پیتل کی تھالی

کسی نے یونہی کر کے خالی

دیواروں کے پار

اچھالی

نہیں !یہ میرا چاند نہیں

اگر یہ میرا چاند ہے تو پھر شہر کی راتو!

اس میں چرخہ کاتنے والی

بڑھیا کیوں موجود نہیں ہے 

دائیں سے بائیں،اُوپر نیچے

اُڑنے والی

چڑیا کیوں موجود نہیں ہے 

میرے ساتھ مرے بچپن میں 

کھیلنے والی

گڑیا کیوں موجود نہیں ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

ذرا ٹھہرو، دُعا کے ساتھ ہی انعام لے جانا ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

ذرا ٹھہرو، دُعا کے ساتھ ہی انعام لے جانا

ادھر تم جا رہے ہو میرا اک پیغام لے جانا
۔۔۔
مرے آنسو ذرا دامن سے اپنے پونچھتے جاؤ

اگر لے جا سکو میری اکیلی شام لے جانا
۔۔۔
اسے کہنا ضروری ہو اگر قیمت شب غم کی 

تو یہ ٹوٹا ہوا دل چن کے اپنے دام لے جانا
۔۔۔
اُسے کہنا مرے آنسو، مرا قرضہ ادا کر دے 

بس اس کے پاس یہ میرا ذرا سا کام لے جانا
۔۔۔
اُسے کہنا اُسے کہنا نہیں! کچھ بھی نہیں کہنا

مت اس کے سامنے میرا کوئی پیغام لے جانا
۔۔۔
مگر تم جب کہو گے ساتھ چلنے کو ،تو حاضر ہوں

کہ میں تو ہوں سدا بندہ بے دام لے جانا
۔۔۔
اعتبار ساجد

کہیں گھر بار حائل ہے کہیں سنسار حائل ہے ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

کہیں گھر بار حائل ہے کہیں سنسار حائل ہے 

ہمارے اور تمہارے بیچ ہر دیوار حائل ہے 
۔۔۔
مجھے معلوم ہے وہ رو رہا ہے سامنے میرے

مگر چہرے کے آگے آج کا اخبار حائل ہے 
۔۔۔
کھلا رکھتا ہے وہ زینے کا دروازہ مری خاطر

مرے رستے میں لیکن شب کا چوکیدار حائل ہے 
۔۔۔
میں اتنی بھیڑ میں تجھ سے کروں کیا گفتگو دل کی 

کہیں مخلوق حائل ہے کہیں بازار حائل ہے 
۔۔۔
کدھر سے راستہ ڈھونڈیں کدھر جائیں کہاں نکلیں

گلی کو چوں میں ہر جانب صف اغیار حائل ہے 
۔۔۔
میں اک ہی شب میں اپنا قصہ جاں ختم تو کر لوں

مگر بس کیا کروں،رستے میں تیرا پیار حائل ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

کئی رُت کی وحشت کا خراج مانگتی ہے ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

کئی رُت کی وحشت کا خراج مانگتی ہے 

کوئی کھیل تو نہیں ہے یہ غزل کی شاعری ہے 
---
ہی سوچ، یہ ندامت مرا دل نچوڑتی ہے 

کہ حروف آرزو میں کسی رنگ کی کمی ہے 
---
جو لہو لہو ہیں مصرعے،تو ہنر نہیں ہے میرا

یہ بہار زخم دل ہے ،یہ کمال جانکنی ہے 
---
مرا چاند رہ گیا ہے کہیں راستے میں شائد

اک اداس کنج گل میں مری شام ڈھل رہی ہے 
---
کبھی عکس تھا کسی کا اسی چوکھٹے میں روشن

وہ شکستہ خالی کھڑکی مجھے اب بھی دیکھتی ہے 
---
مرے دل کے طاقچے پر ذرا تم نگاہ رکھنا!

مری رات کے سفر میں یہ چراغ آخری ہے 
---
مرے اعتبار ساجد! مرے بیقرار ساجد

ذرا حوصلہ تو رکھو،یہ فراق عارضی ہے
---
اعتبار ساجد

نہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیں ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

نہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیں

تجھے اپنے دل کی حالت جو بتائیں کیا بتائیں
۔۔۔
جو چراغ آرزو تھا وہ تو بجھ چکا کبھی کا 

کسے ڈھونڈتی ہیں اب تک یہ ہوائیں کیا بتائیں
۔۔۔
کبھی دور کے نگر سے ،کبھی پاس کی گلی سے 

ہمیں کون دے رہا ہے یہ صدائیں کیا بتائیں
۔۔۔
وہ بہار کس چمن میں مری راہ تک رہی ہے 

یہ درخت گونگے بہرے، یہ خزائیں کیا بتائیں
۔۔۔
کہ گھڑی کی سوئیاں سے تری ساعتیں بندھی ہیں

تجھے پاس منتوں سے جو بٹھائیں کیا بتائیں
۔۔۔
تجھے اعتبار ساجد کے ان آنسوؤں کا کیا غم

کہ برس رہی ہیں کیونکر یہ گھٹائیں کیا بتائیں
۔۔۔
اعتبار ساجد

اب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیں ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

اب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیں

ناحق وہ آزردہ ہو گا، اسے رُلانا ٹھیک نہیں
---
فون کے آگے چپ بیٹھا،میں کتنی دیر سے سوچ رہا ہوں

ابھی وہ تھک کر سویا ہوگا ، سے جگانا ٹھیک نہیں
---
اک روشن کھڑکی کہتی ہے دیکھو،آگے دریا ہے 

جاگ رہے ہیں سب گھر والے لان میں آنا ٹھیک نہیں
---
اس کے سپنے ٹوٹ گئے ، تو تم کو کیا نیند آئے گی

گڑیا جیسی لڑکی کو ،آس دلانا ٹھیک نہیں
---
جتنا سفر گذرا ہے اب تک اب اس کی تکمیل کرو

تم اپنے گھر میں اپنے گھر آگے جانا ٹھیک نہیں
---
گھر والے ناراض تو ہوں گے اتنی دیر سے آنے پر 

چاند کے ساتھ سفر میں تھے تم،یہ تو بہانہ ٹھیک نہیں
---
اعتبار ساجد

پھول تھے رنگ تھے ،لمحوں کی صباحت ہم تھے ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

پھول تھے رنگ تھے ،لمحوں کی صباحت ہم تھے

ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے 
---
سب خرد مند بنے پھرتے تھے ،ماشاء اللہ!

بس ترے شہر میں اک صاحب وحشت ہم تھے 
---
نام بخشا ہے تجھے کس کے وفورِ غم نے 

گر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے 
---
رَت میں تری یاد آئی تو احساس ہوا

اک زمانے میں تری نیند کی راحت ہم تھے 
---
اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو 

وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے 
---
دھُوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمیں ڈھونڈتا تھا

اعتبار اس کے لئے اَبر کی صورت ہم تھے
---
اعتبار ساجد

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟ ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟

مرے تیمار داروں سے 

مسیحا جب یہ کہہ دیں گے

دوا تاثیر کھو بیٹھی

دُعا کا وقت آ پہنچا 

یہ بیماری بہانہ تھی 

قضا کا وقت آ پہنچا

تو کیا تم اتنی بے حس ہو 

یقیں اس پر نہ لاؤ گی 

تو کیا تم اتنی ظالم ہو

مجھے ملنے نہ آؤ گی ؟

اعتبار ساجد

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا

تمہارے کام آ جائے گا، یہ سامان لے جانا
---
تمہارے بعد کیا رکھنا اَنا سے واسطہ کوئی؟

تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا 
---
شکستہ کے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر،چن لو

اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے جانا
---
ادھر الماریوں میں چند اوراق پریشاں ہیں

مرے یہ باقی ماندہ خواب میری جان لے جانا
---
تمہیں ایسے تو خالی ہات رخصت کر نہیں سکتے 

پرانی دوستی ہے اس کی کچھ پہچان لے جانا
---
ارادہ کر لیا ہے تم نے گر سچ مچ بچھڑنے کا!

تو پھر اپنے یہ سارے وعدہ و پیمان لے جانا 
---
اگر تھوڑی بہت ہے شاعری سے اُن کو دلچسپی

تو ان کے سامنے تم میرا یہ دیوان لے جانا
---
اعتبار ساجد

باتیں کچھ کرنی ہیں اس بار کہیں اور چلیں ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

آ مرے دل مرے غمخوار کہیں اور چلیں
---
کوئی کھڑکی نہیں کھلتی کسی باغیچے میں

سانس لینا بھی ہے دشوار کہیں اور چلیں
---
تو بھی مغموم ہے میں بھی ہوں بہت افسردہ

دونوں اس دکھ سے ہیں دوچار کہیں اور چلیں
---
ڈھونڈتے ہیں کوئی سر سبز کشادہ سی فضا

وقت کی دھُند کے اس پار کہیں اور چلیں
---
یہ جو پھولوں سے بھرا شہر ہوا کرتا تھا 

اس کے منظر ہیں دل آزار کہیں اور چلیں
---
ایسے ہنگامہ محشر میں تو دم گھٹتا ہے 

باتیں کچھ کرنی ہیں اس بار کہیں اور چلیں
---
اعتبار ساجد