منگل، 1 مئی، 2018

اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود ۔ ۔ ۔ احمد فراز

احمد فراز اردو لفظ شاعری

اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود

جو سوچ کر گئے وہی اکثر نہیں کہا
۔ ۔ ۔

پیر، 11 دسمبر، 2017

اے میرے سارے لوگو! ۔ ۔ احمد فراز

 Urdu Poetry Ahmad Faraz

اے میرے سارے لوگو!

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو

اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی

اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو

اس سے پہلے مری شہ رگ کا لہو چاٹ چکی


پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں

پھر مرے شہر میں بارُود کی بُو پھیلی ہے

پھر سے "تُو کون ہے میں کون ہوں" آپس میں سوال

پھر وہی سوچ میانِ من و تُو پھیلی ہے


مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے

میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا


پھر ہوئیں عام وہی اہلِ ریا کی باتیں

نعرۂ حُبِّ وطن مالِ تجارت کی طرح

جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں


اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبحِ وحشت کی طرح شامِ غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو پیمانِ وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح


پھر کہاں ہیں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دیے

پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا

صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

مرمریں ہاتھوں پہ جل بُجھ گیا انگارِ حنا


دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دونیم

نوکِ دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر


آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی

میرے دلگیر مرے درد کے مارے لوگو

کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے


خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو
- - -

ہفتہ، 25 نومبر، 2017

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی ۔ ۔ احمد فراز

Ahmad Faraz Urdu Poetry

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
۔ ۔ ۔

جمعرات، 29 جون، 2017

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا ۔ ۔ احمد فراز

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا ۔ ۔ احمد فراز

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا

کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو 


وہ یار کسی شام، خرابات میں آئے ۔ ۔ احمد فراز

وہ یار کسی شام، خرابات میں آئے ۔ ۔ احمد فراز

وہ یار کسی شام، خرابات میں آئے

یوں ہو تو مزہ میل ملاقات میں آئے
--
مت پوچھ کہ ہم کون ہیں یہ دیکھ کہ اے دوست

آئے ہیں تو کس طرح کے حالات میں آئے
--
کچھ اور مِلا میرا لہو اپنی حنا میں

تا اور بھی اعجاز ترے ہاتھ میں آئے
--
اب ذکرِ زمانہ ہے تو ناراض نہ ہونا

گر نام تمہارا بھی کسی بات میں آئے
--
اچھا ہے تنّوع ترے اندازِ ستم میں

کچھ رنگِ مروّت بھی اگر ساتھ میں آئے
--
اک عمر سے جیسے نہ جُنوں ہے نہ سکوں ہے

یارب کوئی گردش مرے حالات میں آئے
--
یہ سال بھی اچھا تھا کہ یاروں کی طرف سے

کچھ اب کے نئے زخم بھی سوغات میں آئے
--
ہم ایسے فقیروں سے محبت سے ملا کر

تا اور بلندی ترے درجات میں آئے
--
ساتھ اُس کے فرازؔ ایسے بھی دن رات گزارے

اب جن کا مزہ صرف حکایات میں آئے

منگل، 27 جون، 2017

اے عشق جنوں پیشہ ۔ ۔ احمد فراز

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیء الفت تھی

یا کوہِ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خوننابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرہء مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی​ ۔ ۔ احمد فراز

احمد فراز کی شاعری

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی​

فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی​
​
یہ قرب کیا ہے کہ تُو سامنے ہے اور ہمیں​

شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی​
​
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں​

تمام عمر اُسی کی عبادتیں کرنی​
​
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اُس کے​

کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی​
​
ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو​

ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی​
​
ملیں جب اُن سے تو مبہم سی گفتگو کرنا​

پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی​
​
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں​

ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی​
​
کبھی فراز نئے موسموں میں رو دینا​

کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی​


شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر تھا ۔ ۔ احمد فراز

شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر تھا
شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

جمعہ، 9 جون، 2017

احمد فراز

تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کیا سے کیا ہو جائیں

احمد فراز

اس سے پہلے کہ بیوفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں