پیر، 13 نومبر، 2017

تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا ۔ ۔ منیش شکلا

Manish Shukla Urdulafz Poetry

تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

یہ کچھ الزام ہیں میرے صفائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
مرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکہ کھا رہے ہو تم

مرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے

کسی دن اپنے ہونے کی دہائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
میں تجھ کو دیکھنے سے کس لئے محروم رہتا ہوں

عطا کرتا ہے جب نظریں رسائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
کئی لمحے چرا کر رکھ لئے تو نے الگ مجھ سے

تو مجھ کو زندگی بھر کی کمائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
خود اپنے آپ کو ہی گھیر کر بیٹھا ہے تو کب سے

اب اپنے آپ سے خود کو رہائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔
میں تجھ کو جیت جانے کی مبارکباد دیتا ہوں

تو مجھ کو ہار جانے کی بدھائی کیوں نہیں دیتا
۔ ۔ ۔