پیر، 27 نومبر، 2017

پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا

آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
۔ ۔ ۔

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
۔ ۔ ۔

پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا ۔ ۔ مرزا غالب

 Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا

افسون انتظار تمنا کہیں جسے
۔ ۔ ۔

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے
۔ ۔ ۔

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
۔ ۔ ۔

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
۔ ۔ ۔

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
۔ ۔ ۔

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی

وہ اک نگہ کہ بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے
۔ ۔ ۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۔ ۔ ۔

بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ

ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پانو
۔ ۔ ۔

بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے

کہ نہ سمجھے وہ لذت دشنام
۔ ۔ ۔

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
۔ ۔ ۔

بہرا ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بہرا ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات

سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
۔ ۔ ۔

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
۔ ۔ ۔

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
۔ ۔ ۔ 

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
۔ ۔ ۔

اتوار، 26 نومبر، 2017

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
۔ ۔ ۔ 

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
۔ ۔ ۔

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم

الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
۔ ۔ ۔

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
۔ ۔ ۔