جمعہ، 27 اپریل، 2018

اک دوسرے کو جان نہ پائے تمام عمر ۔ ۔ ۔ پروین شاکر

پروین شاکر اردو لفظ شاعری

اک دوسرے کو جان نہ پائے تمام عمر

ہم ہی عجیب تھے یا زمانہ عجیب تھا

کھونا تو خیر تھا ہی کسی دن اسے مگر

ایسے ہوا مزاج کا پانا عجیب تھا
۔ ۔ ۔

پیر، 13 نومبر، 2017

آوارگی کی ساری حدوں سے گزر گیا ۔ ۔ جبار واصف

 Jabbar Wasif Urdulafz Poetry

آوارگی کی ساری حدوں سے گزر گیا

مرنے کے بعد بھی مرا لاشہ نہ گھر گیا
۔ ۔ ۔
پھر کس طرح میں پالتا آزار عشق کا

جب میں جواں ہوا تو مرا باپ مر گیا
۔ ۔ ۔

ہفتہ، 4 نومبر، 2017

یہ رعنائی جو آنکھوں کے لیئے سامان ِ جَلوہ ہے ۔ ۔جون ایلیاء

John Elia UrduLafz Poetry

یہ رعنائی جو آنکھوں کے لیئے سامان ِ جَلوہ ہے

لباس ِ مُفلِسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی

یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پَروَردہ

یہ لڑکی ، فاقہ کَش ہوتی، تو بد صورت نظر آتی

پیر، 23 اکتوبر، 2017

ہے زباں بھی دل بھی آنکھیں بھی عقل بھی مگر ۔ ۔ احسان دانش

احسان دانش اردو لفظ شاعری

ہے زباں بھی دل بھی آنکھیں بھی عقل بھی مگر

مصلحت بینی انہیں اذنِ عمل دیتی نہیں

اہلِ دولت سے وفا کی آرزو ہے اک نگاہ

ان زمینوں میں محبت پھول پھل دیتی نہیں
۔ ۔ ۔

اتوار، 22 اکتوبر، 2017

مزاج مختلف ہیں چارہ گر،جوہیں میسر ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

مزاج مختلف ہیں چارہ گر،جوہیں میسر

مگر تنہائی ہر لمحہ رفاقت چاہتی ہے 
۔۔۔
یہ سناٹا تو جاں لیوا ہے اب دیوارو در کا 

کسی سے بات کرنے کو طبیعت چاہتی ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

ہفتہ، 17 جون، 2017

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا ۔ ۔ عدمؔ

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

اے زیست کی تلخی کے شاکی صرف ایک نصیحت ہے میری

آنکھوں کی شرابیں پیتا جا زلفوں کی پناہیں لیتا جا

اے موسم گل جاتا ہے اگر پھر اتنا تکلف کیا معنی

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں ۔ ۔ عدمؔ

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں

دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں

دنیا کتنی حسین لگتی ہے

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں

مسلسل ترا دھیان آنے لگا ۔ ۔ عدمؔ

مسلسل ترا دھیان آنے لگا ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

امنگوں میں ہیجان آنے لگا 

سمندر میں طوفان آنے لگا 

یہ پہلی علامت نہ ہو عشق کی 

مسلسل ترا دھیان آنے لگا

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی ۔ ۔ عدمؔ

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں

جز مے ناب اور کیا پینا

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی

تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا

پردہ داری ہی پردہ داری ہے ۔ ۔ عدمؔ

پردہ داری ہی پردہ داری ہے ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

سلسلہ تیری میری باتوں کا

پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے

پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی

پردہ داری ہی پردہ داری ہے

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں ۔ ۔ عدمؔ

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں

تری نگاہ سے لیکن ابھی نہاں ہوں میں 

میں ہوں ضرور کہیں تیری بزم میں لیکن 

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں