اردو سانچے
اذکار مسنونہ
قرآنی وظائف
قِصصُ الانبیاء
بیانات منہاج المسلم
سیرت النبی مکمل بیان
مکمل قران الکریم
اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi
- اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi شعر و شاعری کی دُنیا میں خوش آمدید
اسلام
Home
تصویری شاعری
1 ہزار لازوال اشعار
سو لازوال غزلیں
بدھ، 2 مئی، 2018
اسکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ ۔ ۔ ۔ جون ایلیا
اسکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیۓ عمر گزار دی گئی
۔ ۔ ۔
جون ایلیا
منگل، 1 مئی، 2018
یعنی تیری نظر میں کوئی دوسرا بهی ہے ۔ ۔ ۔ جون ایلیا
اچها تیری نظر میں بہت منفرد ہوں میں
یعنی تیری نظر میں کوئی دوسرا بهی ہے
۔ ۔ ۔
جون ایلیا
اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود ۔ ۔ ۔ احمد فراز
اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود
جو سوچ کر گئے وہی اکثر نہیں کہا
۔ ۔ ۔
احمد فراز
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری ۔ ۔ ۔ امیر مینائی
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
۔ ۔ ۔
امیر مینائی
جمعہ، 27 اپریل، 2018
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے ۔ ۔ ۔ راحت اندوری
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا
۔ ۔ ۔
راحت اندوری
پیر، 27 نومبر، 2017
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا ۔ ۔ مرزا غالب
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے ۔ ۔ مرزا غالب
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا ۔ ۔ مرزا غالب
پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
افسون انتظار تمنا کہیں جسے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں ۔ ۔ مرزا غالب
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے ۔ ۔ مرزا غالب
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ ۔ ۔ مرزا غالب
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی ۔ ۔ مرزا غالب
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اک نگہ کہ بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ۔ ۔ مرزا غالب
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ ۔ ۔ مرزا غالب
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پانو
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے ۔ ۔ مرزا غالب
بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے
کہ نہ سمجھے وہ لذت دشنام
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بہرا ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات ۔ ۔ مرزا غالب
بہرا ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل ۔ ۔ مرزا غالب
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ۔ ۔ مرزا غالب
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
۔ ۔ ۔
مرزا غالب
پرانی تحاریر
سرِورق