بدھ، 2 مئی، 2018

اسکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ ۔ ۔ ۔ جون ایلیا


اسکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ

عمر گزار دیجیۓ عمر گزار دی گئی
۔ ۔ ۔

منگل، 1 مئی، 2018

یعنی تیری نظر میں کوئی دوسرا بهی ہے ۔ ۔ ۔ جون ایلیا

جون ایلیاء اردو لفظ شاعری

اچها تیری نظر میں بہت منفرد ہوں میں

یعنی تیری نظر میں کوئی دوسرا بهی ہے
۔ ۔ ۔

اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود ۔ ۔ ۔ احمد فراز

احمد فراز اردو لفظ شاعری

اس سے ملے تو زعمِ تکلم کے باوجود

جو سوچ کر گئے وہی اکثر نہیں کہا
۔ ۔ ۔

جمعہ، 27 اپریل، 2018

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے ۔ ۔ ۔ راحت اندوری

راحت اندوری اردو لفظ شاعری

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے

لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا
۔ ۔ ۔

اتوار، 26 نومبر، 2017

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
۔ ۔ ۔ 

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
۔ ۔ ۔

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم

الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
۔ ۔ ۔

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
۔ ۔ ۔

ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر
۔ ۔ ۔

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے

کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
۔ ۔ ۔

اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ

ہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کفن کے پاؤں
۔ ۔ ۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
۔ ۔ ۔

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی
۔ ۔ ۔ 

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
۔ ۔ ۔

ابن مریم ہوا کرے کوئی ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
۔ ۔ ۔

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ

کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
۔ ۔ ۔

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
۔ ۔ ۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
۔ ۔ ۔

تش دوزخ میں یہ گرمی کہاں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں

سوز غم ہائے نہانی اور ہے
۔ ۔ ۔

اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں

اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
۔ ۔ ۔