منگل، 13 جون، 2017

بادشاہ کا خواب--شیخ سعدیؒ

حضرت شیخ سعدیؒ شیرازی

Sheikh Saadi Sheerazi

بادشاہ کا خواب

بیان کیا جاتا ہے، ملک خراسان کے ایک بادشاہ نے سلطان محمود کو سبکتگین کو خواب میں اس حالت میں دیکھا کہ وہ قبر میں پڑا ہے۔ اور اس کا پورا وجود گل سڑکر خاک میں مل چکا ہے۔ لیکن حلقہ ہائے چشم میں اس کی آنکھیں سلامت ہیں اور وہ زندہ انسانوں کی آنکھوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھ رہی ہیں۔

یہ عجیب خواب دیکھ کر بادشاہ بیدار ہوا تو اس نے اپنے امیروں اور وزیروں سے اس کی تعبیر پوچھی سب نے عجز کا اظہار کیا۔ اسی دوران میں ایک درویش بادشاہ کے دربار میں آیا اور اس نے کہا۔ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ سلطان محمود سبکتگین اس بات کو حیران ہو کر دیکھ رہا ہے کہ جو سلطنت اس نے بہت تگ دور کے بعد حاصل کی تھی، اب اس پر غیر قابض ہو گئے ہیں۔

کتنے ہی نامدار زمیں میں سماگئے دنیا میں آج ایک بھی ان کا نشاں بنیں

جو لاش قبر میں گئی گل سڑکے مٹ گئی اپنے حقیقی روپ میں استخواں نہیں

البتہ عدل سے رہا نوشیرواں کا نام گو بزم ہست و نابود میں نوشیرواں نہیں

لازم ہے اس سے پہلے کرے کوئی نیک کام جب لوگ یہ کہیں گے جہاں میں فلاں نہیں

وضاحت

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں جمال و جاہ رکھنے والے لوگوں کو ان کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ انسان کیسا بھی اقتدار حاصل کر لے ایک دن موت اسے قبر کی تاریکیوں میں اتار دیتی ہے۔ البتہ اگر اس نے نیک عمل کیے ہوں تو اسے حیات جاودانی حاصل ہو جاتی ہے۔ جیسے نوشیرواں عادل کو اس کی انصاف پروری کے باعث ناموری حاصل ہوئی کہ قیامت تک اس کا ذکر بھلائی سے کیا جائے گا۔

٭٭٭

بادشاہ کا غُصہ ۔۔ شیخ سعدی

شیخ سعدی شیرازی

Sheikh Saadi Sherazi

بادشاہ کا غُصہ

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کسی بات پر اپنے وزیرسے ناراض ہو گیا اور اس نے اسے اس کے عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیر بہت دانا نیک دل تھا بادشاہ کے دربار سے نکل کر وہ اللہ والوں کی مجلس میں شامل ہو گیا اور ان نیک لوگوں کی صحبت میں اسے ایسی خوشی اور ایسااطمینان ملا جو پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔

بادشاہ نے کچھ دن بعد محسوس کیا کہ جس وزیر کو اس نے معزول کیا ہے وہ تو اس عہدے کے لیے بہت موزوں تھا۔ سچا اور وفادار ہونے کے ساتھ وہ ایسا عقل مند تھا کہ اس کا مشورہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا تھا۔ چنانچہ اس نے وزیر سے کہا کہ وہ اپنی کرسی پھر سنبھا ل لے اور سلطنت کے معزز عہد ے دار کی حیثیت سے خدمات انجام دے

وزیر نے جواب دیا کہ حضور والا، سلطنت کے کاروبار میں مشغول ہونے کے مقابلے میں میرے لیے معزول رہنا زیادہ اچھا ہے۔ اب میں ہر طرح آرام میں ہوں کتوں جسی فطرت رکھنے والے لوگوں کی شرارتوں سے مجھے نجات مل گئی ہے اور خدا کے فضل سے میرا وقت بہت اچھا گزار رہا ہے۔

بادشاہ نے بہت زور دیا لیکن اس نے وزارت کا عہدہ قبول نہ کیا

ہما کو یوں شرف حاصل ہوا سارے پرندوں پر

گزر اوقات کرتا ہے پرانی ہڈیاں کھا کر

قناعت نے عطا کی ہے اسے خوئے جہانداری

معزز ہے وہی بس جس کا شیوہ ہو کم آزادی

وضاحت

حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حکایت میں یہ بات بتائی ہے کہ انسان کو سچھی راحت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ اپنے دل کو لالچ اور حرص جیسی برائیوں سے پاک کر لیتا ہے یہ مقام حاصل ہو جائے تو دولت اور عہدوں کے لیے مارے مارے پھر نے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ یہ چیزیں بغیر طلب کے اس کے قدموں میں آ گرتی ہیں۔


٭٭٭