- اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi شعر و شاعری کی دُنیا میں خوش آمدید
منگل، 1 مئی، 2018
منگل، 31 اکتوبر، 2017
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے ۔ ۔ امیر مینائی
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
یہاں تو میری جان پر بن رہی ہے
تمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤ
وہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولے
تمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے
۔ ۔ ۔
Labels:
امیر مینائی,
پسندیدہ غزلیں,
کلاسیکل شاعری
وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے ۔ ۔ امیر مینائی
وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
۔ ۔ ۔
محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے
۔ ۔ ۔
کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے
میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے
۔ ۔ ۔
اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیں
آپ تو سوتے ہیں، فتنوں کو جگا رکھا ہے
۔ ۔ ۔
آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں ،لیکن امیر
یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے
۔ ۔ ۔
Labels:
امیر مینائی,
پسندیدہ غزلیں,
کلاسیکل شاعری

