وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے
---
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے
---
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ
کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے
---
مثال _شاخ _برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی
خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے
---
تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
کہ شغل _شب تو ستارے شمار کرنا ہے
---
کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں
قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے
---
خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے