منگل، 1 مئی، 2018

جی میں‌ آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا ۔ ۔ ۔ محسن نقوی

محسن نقوی اردو لفظ شاعری

خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے

جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا

مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارہ لیکن

جی میں‌ آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا
۔ ۔ ۔

جمعرات، 29 جون، 2017

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے ۔ ۔ محسن نقوی

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے  ۔ ۔ محسن نقوی

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے 

وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے 
---
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا

مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے 
---
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ 

کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے 
---
مثال _شاخ _برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی 

خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے 
---
تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے 

کہ شغل _شب تو ستارے شمار کرنا ہے 
---
کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں 

قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے 
---
خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن 

خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے