بدھ، 4 اکتوبر، 2017

تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے ۔ ۔ عدم

پسندیدہ اشعار

تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے

گُلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے


کیا مستقل علاج کیا دل کے درد کا . . عدم


Syed Abdul Hameed Addam

کیا مستقل علاج کیا دل کے درد کا

وہ مسکرا دیئے مجھے بیمار دیکھ کر

جمعرات، 10 اگست، 2017

آنکھوں سے پِلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو ۔ ۔ عدم

آنکھوں سے پِلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو

آنکھوں سے پِلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو

اب ہم سے کوئی جام اُٹھایا نہیں جاتا

آنکھ کا اعتبار کیا کرنا ۔ ۔ عدم

آنکھ کا اعتبار کیا کرنا ۔ ۔  عدم

آنکھ کا اعتبار کیا کرنا

جو بھی دیکھا خواب میں دیکھا

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی ۔ ۔ عدم


بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

عبد الحمید عدم

زندگی زور ہے روانی کا - - عدم

زندگی زور ہے روانی کا

زندگی زور ہے روانی کا

کیا تھمے گا بہاؤ پانی کا

عبد الحمید عدم

مسکرا کر خطاب کرتے ہو - - عدم

Syed A Hameed Adam

مسکرا کر خطاب کرتے هو

عادتیں کیوں خراب کرتے هو

مار دو مجھ کو رحم دل هو کر

کیا یہ کارِ ثواب کرتے هو

مفلسی اور کس کو کہتے هیں

دولتوں کا حساب کرتے هو

صرف اک التجا هے چھوٹی سی

کیا اسے باریاب کرتے هو؟

هم تو تم کو پسند کر بیٹھے

تم کسے انتخاب کرتے هو

خار کی نوک کو لہو دے کر

انتظارِ گلاب کرتے هو

یہ نئی احتیاط دیکھی هے

آئینے سے حجاب کرتے هو

کیا ضرورت ہے بحث کرنے کی

کیوں کلیجہ کباب کرتے هو

ہو چکا جو حساب هونا تھا

اور اب کیا حساب کرتے هو

اک دن اے عدم نہ پی تو کیا

روز شغلِ شراب کرتے هو

کتنے بے رحم هو عدم تم بھی

ذکرِ عہدِ شباب کرتے هو

هو کسی کی خوشی گر اس میں عدم

جرم کا ارتکاب کرتے هو


عبدالحمید عدم

جمعرات، 29 جون، 2017

عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے ۔ ۔ عدم

عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے ۔ ۔ عدم

عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے

ستم ظریف بڑے جلد باز ہوتے ہیں

ہفتہ، 17 جون، 2017

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا ۔ ۔ عدمؔ

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

اے زیست کی تلخی کے شاکی صرف ایک نصیحت ہے میری

آنکھوں کی شرابیں پیتا جا زلفوں کی پناہیں لیتا جا

اے موسم گل جاتا ہے اگر پھر اتنا تکلف کیا معنی

غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں ۔ ۔ عدمؔ

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں

دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں

دنیا کتنی حسین لگتی ہے

آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں

مسلسل ترا دھیان آنے لگا ۔ ۔ عدمؔ

مسلسل ترا دھیان آنے لگا ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

امنگوں میں ہیجان آنے لگا 

سمندر میں طوفان آنے لگا 

یہ پہلی علامت نہ ہو عشق کی 

مسلسل ترا دھیان آنے لگا

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی ۔ ۔ عدمؔ

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں

جز مے ناب اور کیا پینا

ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی

تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا

پردہ داری ہی پردہ داری ہے ۔ ۔ عدمؔ

پردہ داری ہی پردہ داری ہے ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

سلسلہ تیری میری باتوں کا

پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے

پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی

پردہ داری ہی پردہ داری ہے

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں ۔ ۔ عدمؔ

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں ۔ ۔ عدمؔ

قطعہ

اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں

تری نگاہ سے لیکن ابھی نہاں ہوں میں 

میں ہوں ضرور کہیں تیری بزم میں لیکن 

تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں

یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے ۔ ۔ عدمؔ

یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے ۔ ۔ عدمؔ

اب شدتِ غم میں مصنوعی آرام سہارا دیتا ہے 

یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے

تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے ۔ ۔ عدمؔ

تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے ۔ ۔ عدمؔ

غزل

ہاں ہم ہیں وہاں ربط و کشش سے کام چلتا ہے

سمجھنے اور سمجھانے کی گنجائش بہت کم ہے

محبت ہو گئی ہے زندگی سے اتنی بے پایاں

کہ اب گھبرا کے مر جانے کی گنجائش بہت کم ہے

تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے

تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے



دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا ۔ ۔ عدمؔ

دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا ۔ ۔ عدمؔ

غزل

غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا

ہر منظرِ حسیں پہ دھندلکا سا چھا گیا

دل میں مکیں تھا کوئی تو جلتے رہے چراغ

جاتے ہوئے وہ شوخ انہیں بھی بجھا گیا

دل تھا، مسرتیں تھیں، جوانی تھی، شوق تھا

لیکن غمِ زمانہ ہر اک شئے کو کھا گیا

برباد دل میں جوشِ تمنا کا دم نہ پوچھ

صحرا میں جیسے کوئی بگولے اڑا گیا

کچھ سوچ کر ہمارے گریباں کی وضع پر

عہدِ بہار جاتے ہوئے مسکرا گیا

دل کا ہجومِ غم سے عدم اب یہ حال ہے

دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا

اے عدم احتیاط لوگوں سے ۔ ۔ عدمؔ

اے عدم احتیاط لوگوں سے ۔ ۔ عدمؔ

غزل

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں 

آدمی بے نظیر ہوتے ہیں 

تیری محفل میں بیٹھنے والے

کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں 

پھول دامن میں چند رکھ لیجئے

راستے میں فقیر ہوتے ہیں

زندگی کے حسین ترکش میں 

کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں

سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

اے عدم احتیاط لوگوں سے

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدم ۔ ۔ عدمؔ

ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدم ۔ ۔ عدمؔ

غزل

ظلمت کا پھول مَے کے اجالے میں آ گرا

ہستی کا راز میرے پیالے میں آ گرا 

مہتاب کا تو ذکر ہی کیا جب جلن ہوئی 

سورج بھی زلفِ یار کے ہالے میں آ گرا 

لَوٹی ہے عقل سوئے جنوں اس امنگ سے 

جیسے گناہ گار شوالے میں آ گرا

ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدم

جیسے چکور چاند کے ہالے میں آ گرا

یار دوزخ میں ہیں مقیم عدم ۔ ۔ عدمؔ

یار دوزخ میں ہیں مقیم عدم ۔ ۔ عدمؔ

غزل

زُلفِ برہم سنبھال کر چلئے 

راستہ دیکھ بھال کر چلئے 

موسمِ گل ہے ، اپنی بانہوں کو 

میری بانہوں میں ڈال کر چلئے 

کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہوگا 

حرج کیا ہے سوال کر چلئے 

یا دوپٹہ نہ لیجئے سر پر 

یا دوپٹہ سنبھال کر چلئے 

یار دوزخ میں ہیں مقیم عدم

خُلد سے انتقال کر چلئے