- اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi شعر و شاعری کی دُنیا میں خوش آمدید
بدھ، 4 اکتوبر، 2017
جمعرات، 10 اگست، 2017
مسکرا کر خطاب کرتے ہو - - عدم
مسکرا کر خطاب کرتے هو
عادتیں کیوں خراب کرتے هو
مار دو مجھ کو رحم دل هو کر
کیا یہ کارِ ثواب کرتے هو
مفلسی اور کس کو کہتے هیں
دولتوں کا حساب کرتے هو
صرف اک التجا هے چھوٹی سی
کیا اسے باریاب کرتے هو؟
هم تو تم کو پسند کر بیٹھے
تم کسے انتخاب کرتے هو
خار کی نوک کو لہو دے کر
انتظارِ گلاب کرتے هو
یہ نئی احتیاط دیکھی هے
آئینے سے حجاب کرتے هو
کیا ضرورت ہے بحث کرنے کی
کیوں کلیجہ کباب کرتے هو
ہو چکا جو حساب هونا تھا
اور اب کیا حساب کرتے هو
اک دن اے عدم نہ پی تو کیا
روز شغلِ شراب کرتے هو
کتنے بے رحم هو عدم تم بھی
ذکرِ عہدِ شباب کرتے هو
هو کسی کی خوشی گر اس میں عدم
جرم کا ارتکاب کرتے هو
عبدالحمید عدم
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
جمعرات، 29 جون، 2017
ہفتہ، 17 جون، 2017
غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
اے زیست کی تلخی کے شاکی صرف ایک نصیحت ہے میری
آنکھوں کی شرابیں پیتا جا زلفوں کی پناہیں لیتا جا
اے موسم گل جاتا ہے اگر پھر اتنا تکلف کیا معنی
غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں
دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں
دنیا کتنی حسین لگتی ہے
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
مسلسل ترا دھیان آنے لگا ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
امنگوں میں ہیجان آنے لگا
سمندر میں طوفان آنے لگا
یہ پہلی علامت نہ ہو عشق کی
مسلسل ترا دھیان آنے لگا
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مے ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
پردہ داری ہی پردہ داری ہے ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
سلسلہ تیری میری باتوں کا
پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے
پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی
پردہ داری ہی پردہ داری ہے
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں ۔ ۔ عدمؔ
قطعہ
اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں
تری نگاہ سے لیکن ابھی نہاں ہوں میں
میں ہوں ضرور کہیں تیری بزم میں لیکن
تلاش کر کے تو خود بتا کہاں ہوں میں
Labels:
پسندیدہ قطعات،,
سید عبدالحمید عدم
یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے ۔ ۔ عدمؔ
اب شدتِ غم میں مصنوعی آرام سہارا دیتا ہے
یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے
Labels:
پسندیدہ اشعار,
سید عبدالحمید عدم
تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے ۔ ۔ عدمؔ
غزل
ہاں ہم ہیں وہاں ربط و کشش سے کام چلتا ہے
سمجھنے اور سمجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
محبت ہو گئی ہے زندگی سے اتنی بے پایاں
کہ اب گھبرا کے مر جانے کی گنجائش بہت کم ہے
تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا ۔ ۔ عدمؔ
غزل
غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا
ہر منظرِ حسیں پہ دھندلکا سا چھا گیا
دل میں مکیں تھا کوئی تو جلتے رہے چراغ
جاتے ہوئے وہ شوخ انہیں بھی بجھا گیا
دل تھا، مسرتیں تھیں، جوانی تھی، شوق تھا
لیکن غمِ زمانہ ہر اک شئے کو کھا گیا
برباد دل میں جوشِ تمنا کا دم نہ پوچھ
صحرا میں جیسے کوئی بگولے اڑا گیا
کچھ سوچ کر ہمارے گریباں کی وضع پر
عہدِ بہار جاتے ہوئے مسکرا گیا
دل کا ہجومِ غم سے عدم اب یہ حال ہے
دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
اے عدم احتیاط لوگوں سے ۔ ۔ عدمؔ
غزل
جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
پھول دامن میں چند رکھ لیجئے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں
زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدم ۔ ۔ عدمؔ
غزل
ظلمت کا پھول مَے کے اجالے میں آ گرا
ہستی کا راز میرے پیالے میں آ گرا
مہتاب کا تو ذکر ہی کیا جب جلن ہوئی
سورج بھی زلفِ یار کے ہالے میں آ گرا
لَوٹی ہے عقل سوئے جنوں اس امنگ سے
جیسے گناہ گار شوالے میں آ گرا
ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدم
جیسے چکور چاند کے ہالے میں آ گرا
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
یار دوزخ میں ہیں مقیم عدم ۔ ۔ عدمؔ
غزل
زُلفِ برہم سنبھال کر چلئے
راستہ دیکھ بھال کر چلئے
موسمِ گل ہے ، اپنی بانہوں کو
میری بانہوں میں ڈال کر چلئے
کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہوگا
حرج کیا ہے سوال کر چلئے
یا دوپٹہ نہ لیجئے سر پر
یا دوپٹہ سنبھال کر چلئے
یار دوزخ میں ہیں مقیم عدم
خُلد سے انتقال کر چلئے
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
سید عبدالحمید عدم
