ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
کس رُخ کی چل رہی ہے ہوا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے
آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک
صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ
گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
گُلچیں کے سدّ باب سے انکار ہے کسے
لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار
یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں
چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب
اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ
تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو
دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست
اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر
طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر
با وصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز
کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل
ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل
کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔
یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف
آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو"
۔ ۔ ۔
ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ
یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
۔ ۔ ۔