منگل، 4 جولائی، 2017

حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

حصارِ لفظ  و بیاں میں گُم ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

حصارِ لفظ  و بیاں میں گُم ہوں

ابھی تری داستان میں گُم ہُوں
---
میں دیکھ سکتی ہُوں دوستوں کو

مگر صفِ دشمناں میں گُم ہُوں
---
بدن کا اپنا عذاب ہے اور

اسی عذاب زیاں میں گُم ہُوں
---
یہ لوگ گھر کہہ رہے ہیں جس کو

میں ایک ایسے مکاں میں گُم ہُوں
---
کہاں وہ لذت مسافتوں کی

میں منزلوں کے نشاں میں گُم ہُوں
---
خبر نہیں موج دشت جاں کی

ہوَا ہُوں اور باد باں میں گُم ہُوں
---
ابھی کہا ں فرصتِ محبّت

ابھی میں کارِ جہاں میں گُم ہُوں
---

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے

بہت تھا جَبر لیکن سہہ لیا ہے
---
عذاب ہجر اَب واپس پلٹ جا

بہت دِن ساتھ میرے رہ لیا ہے
---
نمیَ آنکھوں سے جاتی ہی نہیں ہے

ستم اس دِل نے اِتنا سہہ لیا ہے
---
یہ دل کوئی ٹھکانہ چاہتا ہے

بہت دن راستوں میں رہ لیا ہے
---
تجھے کہنا تھا جو احوال دِل کا

درو دیوار سے ہی کہہ لیا ہے
---

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے

کہ لب پہ کوئی دُعا نہیں ہے
---
عذابِ جاں کا صِلہ نہ مانگو

ابھی تمھیں تجربہ نہیں ہے
---
اُداس چہرے، سوال آنکھیں

یہ میرا شہر وفا نہیں ہے
---
یہ بستیاں جس نے راکھ کر دیں

چراغ تھا وہ، ہَوا نہیں ہے
---
کوئی تو لمحہ سکون کا بھی

یہ زندگی ہے، سزا نہیں ہے
---

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے

عذاب جاں پہ سہا ہے تو گھر بچایا ہے
---
تمام عُمر تعلّق سے مُنحرف بھی رہے

تمام عُمر اِسی کو مگر بچایا ہے
---
بدن کو برف بناتی ہُوئی فضا میں بھی

یہ مُعجزہ ہے کہ دستِ ہُنر بچایا ہے
---
سحرِ ہوئی تو مِرے گھر کو راکھ کرتا تھا

وہ اِک چراغ جسے رات بھر بچایا ہے
---
کُچھ ایسی صُورت حالات ہو گئی دل کو

جنوں کو ترک کیا اور ڈر بچایا ہے
---
یقینِ شہر ہُنر نے یقین موسم میں

بہت کٹھن تھا بچانا مگر بچایا ہے
---

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے

ہَوا کا شور گہرا ہو گیا ہے
---
کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہے

بدن سارا سنہرا ہو گیا ہے
---
یہ دل دیکھوں کہ جس کے چار جانب

تری یادوں کا پہرہ ہو گیا ہے
---
وُہی ہے خال و خد میں روشنی سی

پہ تِل آنکھوں کا گہرا ہو گیا ہے
---
کبھی اس شخص کو دیکھا ہے تم نے

محّبت سے سنہرا ہو گیا ہے
---

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے - - نوشی گیلانی

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے - - نوشی گیلانی

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے

کبھی وہ دن تھے کہ زُلفوں میں شام رکھتے تھے
---
تمھارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو

وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے
---
ہمیں بھی گھیر لیا گھر زعم نے تو کھُلا

کُچھ اور لوگ بھی اِ س میں قیام رکھتے تھے
---
یہ اور بات ہمیں دوستی نہ راس آئی

ہُوا تھی ساتھ تو خُوشبو مقام رکھتے تھے 
---
نجانے کون سی رُت میں بچھڑ گئے وہ لوگ

جو اپنے دل میں بہت احترام رکھتے تھے
---
وہ آ تو جاتا کبھی ، ہم تو اُس کے رستوں پر

دئے جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے
---

ہفتہ، 1 جولائی، 2017

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں

سُخن کرنے سے پہلے سوچتی ہُوں
---
اُداسی مُشتہر ہونے لگی ہے

بھرے گھر میں تماشا ہو گئی ہُوں
---
کبھی یہ خواب میرا راستہ تھے

مگر اب تو اذاں تک جاگتی ہُوں
---
بس اِک حرفِ یقین کی آرزو میں

مَیں کتنے لفظ لکھتی جا رہی ہُوں
---
مَیں اپنی عُمر کی قیمت پہ تیرے

ہر ایک دُکھ کا ازالہ ہو رہی ہُوں
---
غضب کا خوف ہے تنہائیوں میں

اب اپنے آپ سے ڈرنے لگی ہُوں
---

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا

اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اِک خواب بہت برباد ہُوا
---
یہ ہجر ہَوا بھی دُشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی

وہ نام جو، میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہُوا
---
اِس شہر میں کتنے چہرے تھے، کُچھ یاد نہیں سب بھُول گئے

اِک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہُوا
---
وہ اپنی گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا

اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہُوا یا شاد ہُوا
---
بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں

ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بے داد ہُوا
---

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں

ذرا سی بات پر اتنا بکھر نے کیوں لگی ہوں
---
وہ جس موسم کی اب تک منتظر آنکھیں تھیں میری

اسی موسم سے اب میں اِتنا ڈرنے کیوں لگی ہوں
---
مُجھے نادیدہ رستوں پر سفر کا شوق بھی تھا

تھکن پاؤں سے لپٹی ہے تو مرنے کیوں لگی ہوں
---
مُجھے یہ چار دیواری کی رونق مار دے گی

مَیں اِک امکان تھی منزل کا مٹنے کیوں لگی ہوں
---
میں جس کو کم سے کم محسوس کرنا چاہتی تھی

اُسی کی بات کو اِتنا سمجھنے کیوں لگی ہوں
---
جو میرے دل کی گلیوں سے کبھی گُزرا نہیں تھا

اب اپنے ہاتھ سے خط اس کو لکھنے کیوں لگی ہوں
---
بدن کی راکھ تک بھی راستوں میں ناں بچے گی

برستی بارشوں میں یُوں سُلگنے کیوں لگی ہوں
---
وُہی سُورج ہے دُکھ کا پھر یہ ایسا کیا ہُوا ہے

میں پتھر تھی تو آخر اَب پگھلنے کیوں لگی ہوں
---

موت سے مُکر جائیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

موت سے مُکر جائیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

موت سے مُکر جائیں

زندگی سے ڈر جائیں
---
ہجر کے سمندر کو

آؤ پار کر جائیں
---
راستے یہ کہتے ہیں

اب تو اپنے گھر جائیں
---
اِک ذرا سی مُہلت ہو

دل کی بات کر جائیں
---
شہرِ عشق سے آخر

کیسے معتبر جائیں
---
وہ پلٹ کے دیکھے تو

رنگ سے بِکھر جائیں
---

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی

پڑی ہُوئی تھیں مُجھے کِتنی عادتیں اُس کی
---
یہ میرا سارا سَفر اُس کی خوشبوؤں میں کٹا

مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں اُس کی
---
گھِری ہُوئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں لیکن

کہیں نظر نہیں آتیں شباہتیں اُس کی
---
مَیں دُور ہونے لگی ہوں تو ایسا لگتا ہے

کہ چھاؤں جیسی تھیں مجھ پر رفاقتیں اُس کی
---
یہ کِس گلی میں یہ کِس شہر میں نِکل آئے

کہاں پہ رہ گئیں لوگو صداقتیں اُس کی
---
میں بارشوں میں جُدا ہو گئی ہوں اُس سے مگر

یہ میرا دل، مِری سانسیں امانتیں اُس کی
---

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ۔ ۔ نوشی گیلانی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ۔ ۔ نوشی گیلانی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

ہجر کی پُوری رات آتی ہے صبحِ وصال سے پہلے
---
دِل کا کیا ہے دِل نے کتنے منظر دیکھے لیکن

آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے
---
کس نے ریت اُڑائی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں

کوئی مثال تو دو ناں اس کی مثال سے پہلے
---
کارِ محبت ایک سفر ہے اِس میں آ جاتا ہے

ایک زوال آثار سا رستہ بابِ کمال سے پہلے
---
عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ

جتنا ممکن ہو طے کر لیں گر دِ ملال سے پہلے
---

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں  ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں 

کسی کی بات چلے میں تُمھاری بات کروں
---

اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی


اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا

بالآخر ہر دُکھ کو سہنا پڑ جائے گا
---
وقت کی گردش میں آئے تو جان لیا ہے

جھُوٹی بات کو سچّی کہنا پڑ جائے گا
---
اُس کی یاد کے منظر میں اب رات گئے تک

آنسو بن کر آنکھ سے بہنا پڑ جائے گا
---
جس لہجے کی خُوشبو ہر پَل ساتھ رہی ہو

اَسے بھی اب بیگانہ کہنا پڑ جائے گا
---

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا

غرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا
---
یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو

لہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
---
تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکن

جو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن نہیں رہے گا
---
وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بدگُمانی کی بارشوں میں

خطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی پیام ممکن نہیں رہے گا
---
میں جانتی ہوں مجھے یقیں ہے اگر کبھی تُو مجھے بھُلا دے

تو تیری آنکھوں میں روشنی کا قیام ممکن نہیں رہے گا
---
یہ ہم محبّت میں لا تعلّق سے ہو رہے ہیں تو دیکھ لینا

دُعائیں تو خیر کون دے گا سلام ممکن نہیں رہے گا
---

خامشی سے ہاری میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

خامشی سے ہاری میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

خامشی سے ہاری میں

جان تجھ پہ واری میں
---
تِیرگی کے موسم میں

روشنی … پُکاری میں
---
عِشق میں بکھرنے تک

حوصلہ نہ ہاری میں
---
ڈھونڈنے وفا نِکلی

قِسمتوں کی ماری میں
---
اُس طرف زمانہ تھا

اِس طرف تھی ساری میں
---
زندگی کی بے سمتی

دیکھ تجھ سے باری میں
---

جمعہ، 30 جون، 2017

آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے ۔ ۔ نوشی گیلانی

آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے ۔ ۔ نوشی گیلانی

آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے

کی جائے تو پھر اس کی شکایت نہیں کی جائے
---
اس معرکۂ عشق میں اے اہلِ محبت

آساں ہے عداوت پہ عداوت نہیں کی جائے
---
یہ دل کہ اُسی زُود فراموشی پہ مائل

اور ذہن بضد اس سے محبت نہیں کی جائے
---
ہم اہلِ سخن ہیں تو روایت کے مطابق

مصلوب کیا جائے رعایت نہیں کی جائے
---
یہ لوگ تماشا ہیں تو پھر ان سے جنوں میں

کوئی بھی بیاں دل کی حکایت نہیں کی جائے
---

مُجھے موت دے کہ حیات دے ۔ ۔ نوشی گیلانی

مُجھے موت دے کہ حیات دے ۔ ۔ نوشی گیلانی

مُجھے موت دے کہ حیات دے

مِرے بے ہُنر مِرا سات دے
---
مِری پیاس صدیوں کی پیاس ہے

مِرے کربلا کو فرات دے
---
مِرے رتجگوں کے حساب میں

کوئی ایک نیند کی رات دے
---
کوئی ایسا اسمِ عظیم ہو

مُجھے تیرے دُکھ سے نجات دے
---
یہ جو تِیرگی ہے غُرور میں

کوئی روشنی اِسے مات دے
---
مِری شاعری کے نصیب میں

کوئی ایک حرفِ ثبات دے
---


جس طرح ماں کی دُعا ہوتی ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

جس طرح ماں کی دُعا ہوتی ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

جس طرح ماں کی دُعا ہوتی ہے

شاعری ردِ بلا ہوتی ہے
---

شامِ تنہائی میں ۔ ۔ نوشی گیلانی


شامِ تنہائی میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

شامِ تنہائی میں

اب بھی شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں

کون ہے جو مرے لفظ و معنی کی آنکھوں سے بہتے ہُوئے

آنسوؤں میں چھُپے درد چُنتا پھرے

خواب بُنتا پھرے

کون ہے جو مِرے خُون ہوتے ہُوئے دل کی آواز پر

اپنی آواز کے ہونٹ رکھتا پھرے

کون آنکھیں مِری دیکھ کر یہ کہے

’’کیا ہُوا جانِ جاں

کب سے سوئی نہیں

اس سے پہلے تو تم اِتنا روئی نہیں

اَب بھلا کِس لیے خُوبصورت سی آنکھیں پریشان ہیں

اپنی حالت پہ خُود اتنی حیران ہیں ‘‘

کون بے چین ہو

کون بے تاب ہو

موسمِ ہجر ک شامِ تنہائی میں

آبلہ پائی میں 

کون ہو ہم سفر ، گرد ہے رہگزر

کوئی رستہ نہیں کوئی راہی نہیں

در پہ دستک کی کوئی گواہی نہیں

دل کے ویران و برباد صفحات پر

جس قدر لفظ لکھے تھے بے کار ہیں

ایک لمبی جُدائی کے آثار ہیں

سوچتی ہوں کہ اَب

ان خیالوں سے خوابوں سے باہر رہوں

کیوں میں شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں
---