پیر، 12 جون، 2017

حوروں کی طلب اور مے و ساغر سے ہے نفرت۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

https://urdulafz.blogspot.com/search/label/ساغر%20صدیقی

حُوروں کی طلب اور مے و سَاغر سے ہے نَفرت

زَاہد ترے عرفان سے کچھ بُھول ہُوئی ہے

دُنیا کی حقیقت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھُول گئے-(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

2 Line Urdu Poetry Saghar

اب اَپنی حقیقت بِھی ساغرؔ بے رَبط کہانی لگتی ہے

دُنیا کی حقیقت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھُول گئے

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی


زندگی جبر مُسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کِس جُرم کی پائی ہے سَزا یاد نہیں

ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

https://urdulafz.blogspot.com

یہ کناروں سے کھیلنے والے

ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

اتوار، 11 جون، 2017

زندگی کی کوئی کڑی ہوگی۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی


موت کِہتے ہیں جِس کو اے ساغرؔ

زِندگی کی کوئی کڑی ہوگی

میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

2 Line Urdu Poetry Saghar

میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا

غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا

ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

میں نے جِن کے لیے راہوں میں بِچھایا تھا لہُو

ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

2 Line Urdu Poetry Saghar

میں آدمی ہوں کوئی فرِشتہ نہیں حُضور

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی

مجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں

آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں.ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر

آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

عشق کی راہوں میں کچھ ایسے گماں کرتے چلو۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

جن سے زندہ ہو یقن و آگہی کی آبرو

عشق کی راہوں میں کچھ ایسے گماں کرتے چلو

جن سے افسانہ ہستی میں تسلسل تھا کبھی۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

2 Line Urdu Poetry Saghar

جن سے افسانہ ہستی میں تسلسل تھا کبھی

اُن مَحبت کی رِوایات نے دم توڑ دیا

جھلمالتے ہوئے اشکو کی لڑی ٹُوٹ گئی۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

جھلمالتے ہوئے اشکو کی لڑی ٹُوٹ گئی

جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہے دُعا یاد مگر حرفِ دُعا یاد نہیں-(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی منتخب اشعار اردو شاعری

ہے دُعا یاد مگر حرفِ دُعا یاد نہیں


میرے نغمات کو اندازِ نَوا یاد نہیں

چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے۔(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی


اب کہاں ایسی طبیعت والے

چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجئے-(ساغر صدیقی)

ساغر صدیقی

ساغر کے اشعار

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجئے

تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجئے

زَاہد ترے عرفان سے کُچھ بُھول ہوئی ہے۔ساغر صدیقی

ساغر صدیقی

ساغر کے اشعار

حُوروں کی طلب اور مہ و ساغر سے ہے نفرت

زَاہد ترے عرفان سے کُچھ بُھول ہوئی ہے

اک ہوش کی ساعَت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کچھ بُھول گئے۔ ساغر صدیقی

ساغر صدیقی

ساغر کے اشعار

جب جام دِیا تھا ساقی نے جب دَور چلا تھا مَحفل میں

اک ہوش کی ساعَت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کچھ بُھول گئے

اس عہد کے سُلطان سے کُچھ بھُول ہوئی ہے

ساغر صدیقی


ساغر کے اشعار

جس عہد میں لُٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سُلطان سے کُچھ بھُول ہوئی ہے