منگل، 31 اکتوبر، 2017

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے

آنکھیں بھی مری خواب ِ پریشاں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری

جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ تھے میرے

جو چاک ہوا ہے وہ گریباں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
جس کی کوئی آواز نہ پہچان نہ منزل

وہ قافلہ بے سر و ساماں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
ویرانہ مقتل پہ حجاب آیا تو اس بار

خود چیخ پڑا میں کہ عنواں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
وارفتگی صبح بشارت کو خبر کیا

اندیشہ صد شام ِ غریباں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
میں وارث گل ہوں کہ نہیں ہوں مگر اے جان

خمیازہ توہین ِ بہاراں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔
مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی

یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے
۔ ۔ ۔

خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے

ہواؤں کے خد و خال آزمانا چاہتے تھے

آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے

کون جانے کون سا صیاد کسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو

کون سی شاخوں ہی کیسے گل کھلانا چاہتا ہو

شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری

حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں

اور نشانے مستند ہیں

جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں

ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں

خداوند تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند

صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی قسم

اُڑانوں کے لئے پر تولنے والوں پر ایک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والے

کوئی موسم بشارت دینے والا
۔ ۔ ۔

وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

ایک رخ

وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر

سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں

سارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیں

گھوڑوں کی ٹاپوں میں روندی ہوئی روشنی

دریا سے مقتل تک پھیلی ہوئی روشنی

جلے ہوئے خیموں میں سہمی ہوئی روشنی

سارے منظر ایک طرح کے ہوتے ہیں

ایسے منظر کے بعد ایک سناٹا چھا جاتا ہے

یہ سناٹا طبل و علم کی دہشت کو کھا جاتا ہے

سناٹا فریاد کی لے ہے احتجاج کا لہجہ ہے

یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بہت پرانا قصہ ہے

ہر قصے میں صبر کے تیور ایک طرح کے ہوتے ہیں

وہ فرات کے ساحل پر ہوں ہا کسی اور کنارے پر

سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں 
۔ ۔ ۔

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
۔ ۔ ۔
صبح سویرے رن پڑتا ہے اور گھمسان کا رن

راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے
۔ ۔ ۔
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ

اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
۔ ۔ ۔
دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب

جس کی ڈھالیں چمک رہیں تھیں وہی نشانہ ہے
۔ ۔ ۔
کاسہ شام میں سورج کا سر اور آواز ِ اذان

اور آواز اذان کہتی ہے فرض نبھانا ہے
۔ ۔ ۔
سب کہتے ہیں اور کوئی دن یہ ہنگامہ دہر

دل کہتا ہے ایک مسافر اور بھی آنا ہے
۔ ۔ ۔
ایک جزیرہ اس کے آگے پیچھے سات سمندر

سات سمندر پار سنا ہے ایک خزانہ ہے
۔ ۔ ۔

غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیا ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیا

گھر کو جلا کے خاک اڑا دی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
غارت گریٔ شہر میں شامل ہے کون کون 

یہ بات اہل شہر پہ کھل بھی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا 

اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
میثاق اعتبار میں تھی اک وفا کی شرط 

اک شرط ہی تو تھی جو اٹھا دی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
قانون باغبانیٔ صحرا کی سر نوشت 

لکھی گئی تو کیا جو نہ لکھی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
اس قحط و انہدام روایت کے عہد میں 

تالیف نسخہ ہائے وفا کی گئی تو کیا 
۔ ۔ ۔
جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے 

اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا
۔ ۔ ۔