ہفتہ، 25 نومبر، 2017

مجھے خوف ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

نوشی گیلانی

مجھے خوف ہے

وہ نباہ کے کسی مرحلے پہ

یہ آ کے کہہ دے کہ __ اَب نہیں ..

مِرے دل کو تیری طلب نہیں ..
۔ ۔ ۔

پیر، 13 نومبر، 2017

ناگ ناگن ہیں باغ میں شاید ۔ ۔ جبار واصف

Jabbar Wasif Urdulafz Poetry

ہراس ...

ناگ ناگن ہیں باغ میں شاید

زہر آمیز قربتیں جن کی

کر رہی ہیں سنپولیے پیدا

کوئی پوچھے تو یہ سپیروں سے

کیسے ممکن ہے سیر گلشن کی؟

سانپ لٹکے ہوں جب درختوں سے!
۔ ۔ ۔

منگل، 31 اکتوبر، 2017

خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے

ہواؤں کے خد و خال آزمانا چاہتے تھے

آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے

کون جانے کون سا صیاد کسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو

کون سی شاخوں ہی کیسے گل کھلانا چاہتا ہو

شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری

حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں

اور نشانے مستند ہیں

جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں

ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں

خداوند تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند

صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی قسم

اُڑانوں کے لئے پر تولنے والوں پر ایک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والے

کوئی موسم بشارت دینے والا
۔ ۔ ۔

وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر ۔ ۔ افتخار عارف

Iftikhar Arif Urdulafz Poetry

ایک رخ

وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر

سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں

سارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیں

گھوڑوں کی ٹاپوں میں روندی ہوئی روشنی

دریا سے مقتل تک پھیلی ہوئی روشنی

جلے ہوئے خیموں میں سہمی ہوئی روشنی

سارے منظر ایک طرح کے ہوتے ہیں

ایسے منظر کے بعد ایک سناٹا چھا جاتا ہے

یہ سناٹا طبل و علم کی دہشت کو کھا جاتا ہے

سناٹا فریاد کی لے ہے احتجاج کا لہجہ ہے

یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بہت پرانا قصہ ہے

ہر قصے میں صبر کے تیور ایک طرح کے ہوتے ہیں

وہ فرات کے ساحل پر ہوں ہا کسی اور کنارے پر

سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں 
۔ ۔ ۔

اتوار، 22 اکتوبر، 2017

ویسا چاند نہ مانگو ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

ویسا چاند نہ مانگو

ویسا چاند نہ مانگو

نہیں!

یہ میرا چاند نہیں

اتنا دھندلا

اتنا ماند

میرا چاند؟

نہیں یہ میرا چاند نہیں

یہ تو کوئی پیتل کی تھالی

کسی نے یونہی کر کے خالی

دیواروں کے پار

اچھالی

نہیں !یہ میرا چاند نہیں

اگر یہ میرا چاند ہے تو پھر شہر کی راتو!

اس میں چرخہ کاتنے والی

بڑھیا کیوں موجود نہیں ہے 

دائیں سے بائیں،اُوپر نیچے

اُڑنے والی

چڑیا کیوں موجود نہیں ہے 

میرے ساتھ مرے بچپن میں 

کھیلنے والی

گڑیا کیوں موجود نہیں ہے
۔۔۔
اعتبار ساجد

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟ ۔ ۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد اردو لفظ شاعری

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟

تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟

مرے تیمار داروں سے 

مسیحا جب یہ کہہ دیں گے

دوا تاثیر کھو بیٹھی

دُعا کا وقت آ پہنچا 

یہ بیماری بہانہ تھی 

قضا کا وقت آ پہنچا

تو کیا تم اتنی بے حس ہو 

یقیں اس پر نہ لاؤ گی 

تو کیا تم اتنی ظالم ہو

مجھے ملنے نہ آؤ گی ؟

اعتبار ساجد

جمعہ، 30 جون، 2017

شامِ تنہائی میں ۔ ۔ نوشی گیلانی


شامِ تنہائی میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

شامِ تنہائی میں

اب بھی شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں

کون ہے جو مرے لفظ و معنی کی آنکھوں سے بہتے ہُوئے

آنسوؤں میں چھُپے درد چُنتا پھرے

خواب بُنتا پھرے

کون ہے جو مِرے خُون ہوتے ہُوئے دل کی آواز پر

اپنی آواز کے ہونٹ رکھتا پھرے

کون آنکھیں مِری دیکھ کر یہ کہے

’’کیا ہُوا جانِ جاں

کب سے سوئی نہیں

اس سے پہلے تو تم اِتنا روئی نہیں

اَب بھلا کِس لیے خُوبصورت سی آنکھیں پریشان ہیں

اپنی حالت پہ خُود اتنی حیران ہیں ‘‘

کون بے چین ہو

کون بے تاب ہو

موسمِ ہجر ک شامِ تنہائی میں

آبلہ پائی میں 

کون ہو ہم سفر ، گرد ہے رہگزر

کوئی رستہ نہیں کوئی راہی نہیں

در پہ دستک کی کوئی گواہی نہیں

دل کے ویران و برباد صفحات پر

جس قدر لفظ لکھے تھے بے کار ہیں

ایک لمبی جُدائی کے آثار ہیں

سوچتی ہوں کہ اَب

ان خیالوں سے خوابوں سے باہر رہوں

کیوں میں شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں
---

انحراف ۔ ۔ نوشی گیلانی

انحراف ۔ ۔ نوشی گیلانی

انحراف 

بہت تاخیر سے لیکن 

کھُلا یہ بھید خُود پر بھی

کہ میں اب تک

مّحبت جان کر جس

جذبۂ دیرینہ کو اپنے لہُو سے سینچتی آئی

وہ جس کی ساعتِ صد مہرباں ہی زندگی کی شرط ٹھہری تھی

فقط اک شائبہ ہی تھا مّحبت کا

یُو نہی عادت تھی ہر رستے پہ اُس کے ساتھ چلنے کی

وگر نہ ترک خواہش پر

یہ دل تھوڑا سا تو دُکھتا

ذرا سی آنکھ نَم ہوتی
---

جمعرات، 29 جون، 2017

کُچھ بھی تو نہیں ویسا ۔ ۔ نوشی گیلانی

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچا تھا

جتنا تجھے چاہا تھا

سوچا تھا تیرے لب پر

کُچھ حرف دُعاؤں کے

کُچھ پھُول وفاؤں کے

مہکیں گی مِری خاطر

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچا تھا

محسوس یہ ہوتا ہے

دُکھ جھیلے تھے جو اَب تک

بے نام مسافت میں

لکھنے کی محبّت میں

پڑھنے کی ضرورت میں

بے سُور ریاضت تھی

بے فیض عبادت تھی

جو خواب بھی دیکھے تھے

ان جاگتی آنکھوں نے

سب خام خیالی تھی

پھر بھی تجھے پانے کی

دل کے کسی گوشے میں

خواہش تو بچا لی تھی

لیکن تجھے پاکر بھی

اور خود کو گنوا کر بھی

اس حبس کے موسم کی کھڑی سے ہوا آئی

نہ پھول سے خُوشبو کی کوئی بھی صدا آئی

اب نیند ہے آنکھوں میں

ناں دل میں وہ پہلی سی تازہ سخن آرائی

ناں لفظ مِرے نکلے

ناں حرف و معافی کی دانش مِرے کام آئی

نادیدہ رفاقت میں

جتنی بھی اذیت تھی

سب میرے ہی نام آئی

کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا

جتنا تجھے چاہا تھا
---

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

ورثہ

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں

ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے

سارے درد چُھپا لیتی ہیں

روتے روتے ہنس پڑتی ہیں

ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رو لیتی ہیں

خوشی کی خواہش کرتے کرتے

خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں

سو حصّوں میں بٹ جاتی ہیں

گھر کے دروازے پر بیٹھی

اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں

میں جو گئے دنوں میں

ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی

اب خود بھی تو

عُمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگا ئے

فصل خوشی کی بوتی ہوں

اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں

جانے کیسی رسم ہے یہ بھی

ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں

اپنا مقدّر دے دیتی ہے
---

نہ گُفتگو کا کمال آہنگ ۔ ۔ نوشی گیلانی

نہ گُفتگو کا کمال آہنگ ۔ ۔ نوشی گیلانی

حیرت

نہ گُفتگو کا کمال آہنگ

نہ بات کے بے مثال معنی

نہ خال و خد میں وہ جاذبیت

جو جسم و جاں کو اسیر کر لے

نہ مستقل کوئی عکس خواہش

مگر یہ کیا ہے

میں کس کی خاطر

وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں

مسافرت کی نئی کہانی 
---

کون روک سکتا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

کون روک سکتا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

کون روک سکتا ہے 

لاکھ ضبطِ خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں

اُس کو بھُول جانے کے

بے پنہ اِرادے ہوں

اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا

فیصلہ سُنانے کو

کتنے لفظ سوچے ہوں

دل کو اس کی آہٹ پر

برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے

پھر وفا کے صحرا میں

اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی

خُوشبوؤں کو چھُونے کی

جستجو میں رہنے سے

رُوح تک پگھلنے سے

ننگے پاؤں چلنے سے

کون روک سکتا ہے

آنسوؤں کی بارش میں

چاہے دل کے ہاتھوں میں

ہجر کے مُسافر کے

پاؤں تک بھی چھُو آؤ

جِس کو لَوٹ جانا ہو

اس کو دُور جانے سے

راستہ بدلنے سے

دُور جا نکلنے سے

کون روک سکتا ہے

منگل، 27 جون، 2017

تم جس خواب میں آنکھیں کھولو ۔ ۔ امجد اسلام امجد

تم جس خواب میں آنکھیں کھولو

تم جس خواب میں آنکھیں کھولو

اس کا روپ امر

تم جس رنگ کا کپڑا پہنو

وہ موسم کا رنگ

تم جس پھول کو ہنس کے دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے

تم جس حرف پہ انگلی رکھ دو

وہ روشن ہو جائے

اے عشق جنوں پیشہ ۔ ۔ احمد فراز

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیء الفت تھی

یا کوہِ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خوننابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرہء مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ