لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار
میں گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار
---
کس کی روح تعاقب میں ہے سائے کے مانند
آتی ہے نزدیک سے اکثر خوشبو کی جھنکار
---
تیرے سامنے بیٹھا ہوں آنکھوں میں اشک لیے
میرے تیرے بیچ ہو جیسے شیشے کی دیوار
---
میرے باہر اتنی ہی مربوط ہے بے ربطی
میرے اندر کی دنیا ہے جتنی پر اسرار
---
بند آنکھوں میں کانپ رہے ہیں جگنو جگنو خواب
سر پر جھول رہی ہے کیسی نادیدہ تلوار
---


