پیر، 13 نومبر، 2017

مجھ سے بنتا ہوا تُو تجھ کو بناتا ہوا میں ۔ ۔ عمار اقبال

Ammar Iqbal Urdulafz Poetry

مجھ سے بنتا ہوا تُو تجھ کو بناتا ہوا میں

گیت ہوتا ہوا تُو ، گیت سناتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
ایک کُوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں

نقش دیتا ہوا تُو ، چاک گھماتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ

میں بناتا ہوں کہیں دُور سے آتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
ایک تصویر کی تکمیل کے ہم دو پہلو

رنگ بھرتا ہوا تُو ، رنگ بناتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
مجھ کو لے جائے کہیں دور بہاتی ہوئی تُو

تجھ کو لے جاؤں کہیں دور اڑاتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
اک عبارت ہے جو تحریر نہیں ہو پائی

مجھ کو لکھتا ہوا تُو، تجھ کو مٹاتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
میرے سینے میں کہیں خود کو چھپاتا ہوا تُو

تیرے سینے سے ترا درد چُراتا ہوا میں
۔ ۔ ۔
کانچ کا ہو کے مرے آگے بکھرتا ہوا تُو

کرچیوں کو تِری پلکوں سے اٹھاتا ہوا میں
۔ ۔ ۔

رات سے جنگ کوئی کھیل نئیں ۔ ۔ عمار اقبال

Ammar Iqbal Urdulafz Poetry

رات سے جنگ کوئی کھیل نئیں

تم چراغوں میں اتنا تیل نئیں
۔ ۔ ۔
آگیا ہوں، تو کھینچ اپنی طرف

میری جانب مجھے دھکیل نئیں
۔ ۔ ۔
جب میں چاہوں گا ، چھوڑ جاؤں گا

اک سرائے ہے جسم، جیل نئیں
۔ ۔ ۔
بینچ دیکھی ہے خواب میں خالی

اور پٹڑی، پر اس پے ریل نئیں
۔ ۔ ۔
جس کو دیکھا تھا کل درخت کے گرد

وہ ہرا اژدہا تھا، بیل نئیں
۔ ۔ ۔

پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ۔ ۔ عمار اقبال

Ammar Iqbal Urdulafz Poetry

پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی

پھر اس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی
۔ ۔ ۔
میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار

میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی
۔ ۔ ۔
دل آج شام سے ہی اسے ڈھونڈنے لگا

کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی
۔ ۔ ۔
وہ کس کی نغمگی تھی جو داروں سروں میں تھی

رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی
۔ ۔ ۔
پھر یوں ہوا کہ اس کو تمنائی کر لیا

میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی
۔ ۔ ۔