ہفتہ، 1 جولائی، 2017

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں

سُخن کرنے سے پہلے سوچتی ہُوں
---
اُداسی مُشتہر ہونے لگی ہے

بھرے گھر میں تماشا ہو گئی ہُوں
---
کبھی یہ خواب میرا راستہ تھے

مگر اب تو اذاں تک جاگتی ہُوں
---
بس اِک حرفِ یقین کی آرزو میں

مَیں کتنے لفظ لکھتی جا رہی ہُوں
---
مَیں اپنی عُمر کی قیمت پہ تیرے

ہر ایک دُکھ کا ازالہ ہو رہی ہُوں
---
غضب کا خوف ہے تنہائیوں میں

اب اپنے آپ سے ڈرنے لگی ہُوں
---

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا

اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اِک خواب بہت برباد ہُوا
---
یہ ہجر ہَوا بھی دُشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی

وہ نام جو، میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہُوا
---
اِس شہر میں کتنے چہرے تھے، کُچھ یاد نہیں سب بھُول گئے

اِک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہُوا
---
وہ اپنی گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا

اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہُوا یا شاد ہُوا
---
بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں

ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بے داد ہُوا
---

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں

ذرا سی بات پر اتنا بکھر نے کیوں لگی ہوں
---
وہ جس موسم کی اب تک منتظر آنکھیں تھیں میری

اسی موسم سے اب میں اِتنا ڈرنے کیوں لگی ہوں
---
مُجھے نادیدہ رستوں پر سفر کا شوق بھی تھا

تھکن پاؤں سے لپٹی ہے تو مرنے کیوں لگی ہوں
---
مُجھے یہ چار دیواری کی رونق مار دے گی

مَیں اِک امکان تھی منزل کا مٹنے کیوں لگی ہوں
---
میں جس کو کم سے کم محسوس کرنا چاہتی تھی

اُسی کی بات کو اِتنا سمجھنے کیوں لگی ہوں
---
جو میرے دل کی گلیوں سے کبھی گُزرا نہیں تھا

اب اپنے ہاتھ سے خط اس کو لکھنے کیوں لگی ہوں
---
بدن کی راکھ تک بھی راستوں میں ناں بچے گی

برستی بارشوں میں یُوں سُلگنے کیوں لگی ہوں
---
وُہی سُورج ہے دُکھ کا پھر یہ ایسا کیا ہُوا ہے

میں پتھر تھی تو آخر اَب پگھلنے کیوں لگی ہوں
---

موت سے مُکر جائیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

موت سے مُکر جائیں ۔ ۔ نوشی گیلانی

موت سے مُکر جائیں

زندگی سے ڈر جائیں
---
ہجر کے سمندر کو

آؤ پار کر جائیں
---
راستے یہ کہتے ہیں

اب تو اپنے گھر جائیں
---
اِک ذرا سی مُہلت ہو

دل کی بات کر جائیں
---
شہرِ عشق سے آخر

کیسے معتبر جائیں
---
وہ پلٹ کے دیکھے تو

رنگ سے بِکھر جائیں
---

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی

پڑی ہُوئی تھیں مُجھے کِتنی عادتیں اُس کی
---
یہ میرا سارا سَفر اُس کی خوشبوؤں میں کٹا

مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں اُس کی
---
گھِری ہُوئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں لیکن

کہیں نظر نہیں آتیں شباہتیں اُس کی
---
مَیں دُور ہونے لگی ہوں تو ایسا لگتا ہے

کہ چھاؤں جیسی تھیں مجھ پر رفاقتیں اُس کی
---
یہ کِس گلی میں یہ کِس شہر میں نِکل آئے

کہاں پہ رہ گئیں لوگو صداقتیں اُس کی
---
میں بارشوں میں جُدا ہو گئی ہوں اُس سے مگر

یہ میرا دل، مِری سانسیں امانتیں اُس کی
---

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ۔ ۔ نوشی گیلانی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ۔ ۔ نوشی گیلانی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

ہجر کی پُوری رات آتی ہے صبحِ وصال سے پہلے
---
دِل کا کیا ہے دِل نے کتنے منظر دیکھے لیکن

آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے
---
کس نے ریت اُڑائی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں

کوئی مثال تو دو ناں اس کی مثال سے پہلے
---
کارِ محبت ایک سفر ہے اِس میں آ جاتا ہے

ایک زوال آثار سا رستہ بابِ کمال سے پہلے
---
عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ

جتنا ممکن ہو طے کر لیں گر دِ ملال سے پہلے
---

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں  ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں 

کسی کی بات چلے میں تُمھاری بات کروں
---

اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی


اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا

بالآخر ہر دُکھ کو سہنا پڑ جائے گا
---
وقت کی گردش میں آئے تو جان لیا ہے

جھُوٹی بات کو سچّی کہنا پڑ جائے گا
---
اُس کی یاد کے منظر میں اب رات گئے تک

آنسو بن کر آنکھ سے بہنا پڑ جائے گا
---
جس لہجے کی خُوشبو ہر پَل ساتھ رہی ہو

اَسے بھی اب بیگانہ کہنا پڑ جائے گا
---

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا ۔ ۔ نوشی گیلانی

یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا

غرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا
---
یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو

لہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
---
تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکن

جو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن نہیں رہے گا
---
وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بدگُمانی کی بارشوں میں

خطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی پیام ممکن نہیں رہے گا
---
میں جانتی ہوں مجھے یقیں ہے اگر کبھی تُو مجھے بھُلا دے

تو تیری آنکھوں میں روشنی کا قیام ممکن نہیں رہے گا
---
یہ ہم محبّت میں لا تعلّق سے ہو رہے ہیں تو دیکھ لینا

دُعائیں تو خیر کون دے گا سلام ممکن نہیں رہے گا
---

خامشی سے ہاری میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

خامشی سے ہاری میں ۔ ۔ نوشی گیلانی

خامشی سے ہاری میں

جان تجھ پہ واری میں
---
تِیرگی کے موسم میں

روشنی … پُکاری میں
---
عِشق میں بکھرنے تک

حوصلہ نہ ہاری میں
---
ڈھونڈنے وفا نِکلی

قِسمتوں کی ماری میں
---
اُس طرف زمانہ تھا

اِس طرف تھی ساری میں
---
زندگی کی بے سمتی

دیکھ تجھ سے باری میں
---