جمعرات، 10 اگست، 2017

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی ۔ ۔ عدم


بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

عبد الحمید عدم

زندگی زور ہے روانی کا - - عدم

زندگی زور ہے روانی کا

زندگی زور ہے روانی کا

کیا تھمے گا بہاؤ پانی کا

عبد الحمید عدم

مسکرا کر خطاب کرتے ہو - - عدم

Syed A Hameed Adam

مسکرا کر خطاب کرتے هو

عادتیں کیوں خراب کرتے هو

مار دو مجھ کو رحم دل هو کر

کیا یہ کارِ ثواب کرتے هو

مفلسی اور کس کو کہتے هیں

دولتوں کا حساب کرتے هو

صرف اک التجا هے چھوٹی سی

کیا اسے باریاب کرتے هو؟

هم تو تم کو پسند کر بیٹھے

تم کسے انتخاب کرتے هو

خار کی نوک کو لہو دے کر

انتظارِ گلاب کرتے هو

یہ نئی احتیاط دیکھی هے

آئینے سے حجاب کرتے هو

کیا ضرورت ہے بحث کرنے کی

کیوں کلیجہ کباب کرتے هو

ہو چکا جو حساب هونا تھا

اور اب کیا حساب کرتے هو

اک دن اے عدم نہ پی تو کیا

روز شغلِ شراب کرتے هو

کتنے بے رحم هو عدم تم بھی

ذکرِ عہدِ شباب کرتے هو

هو کسی کی خوشی گر اس میں عدم

جرم کا ارتکاب کرتے هو


عبدالحمید عدم

پیر، 24 جولائی، 2017

حاضر جوابی اور حاضر دماغی ۔ ۔ سنہری باتیں

Urdulafz

حاضر جوابی اور حاضر دماغی

٭ ایک شخص نے مشہور شاعر متنبی سے کہا: میں نےدُور سے آپ کو دیکھ کر عورت سمجھا
متنبی نے جواب دیا: میں نے جب دُور سے آپ کو دیکھا تھا آپ کو مرد سمجھا تھا۔

٭ برطانیہ کے موٹے وزیراعظم " چرچل"نے دبلے " برنارڈشاہ " سے کہا : تمہیں جو دیکھے گا وہ سوچے گا کہ برطانیہ میں غذائی بحران ہے۔ اس پر شو نے کہا: جو تمہیں دیکھے گا اس بحران کا سبب بھی سمجھ جائے گا۔

٭ ایک عرب بدو گدھے پر بیٹھ کر ایک گاوں میں گیا تو ایک شخص نے اس سے کہا: میں نے تمہارے گدھے کو دیکھ کرتمہیں پہچان لیا۔ اس نے فورا کہا: جی ہاں گدھے کو گدھا ہی پہچان لیتا ہے۔

٭ایک آدمی نے ایک خاتون سے کہا: تم کتنی خوبصورت ہو۔ خاتون نے کہا: کاش تم بھی خوبصورت ہوتے تو میں بھی تم سے یہی کہتی۔ آدمی نے کہا: کوئی مسئلہ نہیں میری طرح جھوٹ ہی بول لو۔

٭ایک خاتون کسی گاوں میں چار گدھوں کو ہانک کر کھیتوں میں جارہی تھی دو نوجوان سامنے سے آئے اور کہا : صبح بخیر گدھوں کی ماں۔ خاتون نے فورا کہا: صبح بخیر میرے بچوں۔

٭ ایک بدو ایک بار ایک عرب شہزادے کے ساتھ بکری کا گوشت کھا رہا تھا ، شہزادے نے ان کی جانب سے جلدی جلدی کھانے کو دیکھ کر کہا: بکری کا گوشت ایسا کھارہے ہو کہ گویا اس کی ماں نے تمہیں سینگ ماری تھی۔ بدو نے فورا کہا: تم ایسا کھا رہے ہو جیسی اس کی ماں تمہاری رضاعی ماں تھی...

منقول

منگل، 4 جولائی، 2017

حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

حصارِ لفظ  و بیاں میں گُم ہوں ۔ ۔ نوشی گیلانی

حصارِ لفظ  و بیاں میں گُم ہوں

ابھی تری داستان میں گُم ہُوں
---
میں دیکھ سکتی ہُوں دوستوں کو

مگر صفِ دشمناں میں گُم ہُوں
---
بدن کا اپنا عذاب ہے اور

اسی عذاب زیاں میں گُم ہُوں
---
یہ لوگ گھر کہہ رہے ہیں جس کو

میں ایک ایسے مکاں میں گُم ہُوں
---
کہاں وہ لذت مسافتوں کی

میں منزلوں کے نشاں میں گُم ہُوں
---
خبر نہیں موج دشت جاں کی

ہوَا ہُوں اور باد باں میں گُم ہُوں
---
ابھی کہا ں فرصتِ محبّت

ابھی میں کارِ جہاں میں گُم ہُوں
---

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے

بہت تھا جَبر لیکن سہہ لیا ہے
---
عذاب ہجر اَب واپس پلٹ جا

بہت دِن ساتھ میرے رہ لیا ہے
---
نمیَ آنکھوں سے جاتی ہی نہیں ہے

ستم اس دِل نے اِتنا سہہ لیا ہے
---
یہ دل کوئی ٹھکانہ چاہتا ہے

بہت دن راستوں میں رہ لیا ہے
---
تجھے کہنا تھا جو احوال دِل کا

درو دیوار سے ہی کہہ لیا ہے
---

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

قبولیت کا گِلہ نہیں ہے

کہ لب پہ کوئی دُعا نہیں ہے
---
عذابِ جاں کا صِلہ نہ مانگو

ابھی تمھیں تجربہ نہیں ہے
---
اُداس چہرے، سوال آنکھیں

یہ میرا شہر وفا نہیں ہے
---
یہ بستیاں جس نے راکھ کر دیں

چراغ تھا وہ، ہَوا نہیں ہے
---
کوئی تو لمحہ سکون کا بھی

یہ زندگی ہے، سزا نہیں ہے
---

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے

عذاب جاں پہ سہا ہے تو گھر بچایا ہے
---
تمام عُمر تعلّق سے مُنحرف بھی رہے

تمام عُمر اِسی کو مگر بچایا ہے
---
بدن کو برف بناتی ہُوئی فضا میں بھی

یہ مُعجزہ ہے کہ دستِ ہُنر بچایا ہے
---
سحرِ ہوئی تو مِرے گھر کو راکھ کرتا تھا

وہ اِک چراغ جسے رات بھر بچایا ہے
---
کُچھ ایسی صُورت حالات ہو گئی دل کو

جنوں کو ترک کیا اور ڈر بچایا ہے
---
یقینِ شہر ہُنر نے یقین موسم میں

بہت کٹھن تھا بچانا مگر بچایا ہے
---

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ۔ ۔ نوشی گیلانی

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے

ہَوا کا شور گہرا ہو گیا ہے
---
کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہے

بدن سارا سنہرا ہو گیا ہے
---
یہ دل دیکھوں کہ جس کے چار جانب

تری یادوں کا پہرہ ہو گیا ہے
---
وُہی ہے خال و خد میں روشنی سی

پہ تِل آنکھوں کا گہرا ہو گیا ہے
---
کبھی اس شخص کو دیکھا ہے تم نے

محّبت سے سنہرا ہو گیا ہے
---

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے - - نوشی گیلانی

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے - - نوشی گیلانی

گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے

کبھی وہ دن تھے کہ زُلفوں میں شام رکھتے تھے
---
تمھارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو

وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے
---
ہمیں بھی گھیر لیا گھر زعم نے تو کھُلا

کُچھ اور لوگ بھی اِ س میں قیام رکھتے تھے
---
یہ اور بات ہمیں دوستی نہ راس آئی

ہُوا تھی ساتھ تو خُوشبو مقام رکھتے تھے 
---
نجانے کون سی رُت میں بچھڑ گئے وہ لوگ

جو اپنے دل میں بہت احترام رکھتے تھے
---
وہ آ تو جاتا کبھی ، ہم تو اُس کے رستوں پر

دئے جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے
---