- اُردُو لفظ شاعری - Urdu Lafz Shairi شعر و شاعری کی دُنیا میں خوش آمدید
منگل، 1 مئی، 2018
جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا ۔ ۔ ۔ محسن نقوی
خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے
جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا
مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارہ لیکن
جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا
۔ ۔ ۔
Labels:
" خ ",
پسندیدہ قطعات,
محسن نقوی
جمعہ، 27 اپریل، 2018
اک دوسرے کو جان نہ پائے تمام عمر ۔ ۔ ۔ پروین شاکر
اک دوسرے کو جان نہ پائے تمام عمر
ہم ہی عجیب تھے یا زمانہ عجیب تھا
کھونا تو خیر تھا ہی کسی دن اسے مگر
ایسے ہوا مزاج کا پانا عجیب تھا
۔ ۔ ۔
Labels:
پروین شاکر,
پسندیدہ قطعات،
اب آئینے کے سِوا کوئی روبرو نہیں ہے ۔ ۔ ۔ عرفان ستار
درون ِ دل ترا ماتم ہے، کُو بہ کُو نہیں ہے
ہمارے مسلک ِ غم میں یہ ہاؤ ہُو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
یہ کس کو اپنے سے باہر تلاش کرتے ہیں
یہ کون ہیں کہ جنھیں اپنی جستجو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
میں جیت بھی جو گیا تو شکست ہوگی مجھے
مرا تو اپنے سِوا کوئی بھی عدو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
نہیں ہے اب کوئی زندان تک برائے قیام
رسن بھی اب پئے آرائش ِ گُلو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
تمام عمر کی ایذا دہی کے بعد کھُلا
میں جس کی یاد میں روتا رہا وہ تُو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
تُو چیز کیا ہے جو کی جائے تیری قدر میاں
کہ اب تو شہر میں غالب کی آبرو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
نہیں چمن کے کسی گُل میں تجھ بدن سی مہک
شراب خانے میں تجھ لب سا اک سُبو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
تُو خود پسند، تعلی پسند تیرا مزاج
میں خود شناس، مجھے عادت ِ غُلو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
ہے سرخ رنگ کی اک شے بغیرِجوش و خروش
تری رگوں میں جو بہتا ہے وہ لہُو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
ہر ایک اچھا سخن ور ہے داد کا حق دار
کہ بددیانتی اہلِ سخن کی خُو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
کہاں سے ڈھونڈ کے لاتا ہے اپنے حق میں دلیل
جناب ِ دل سا کوئی اور حیلہ جوُ نہیں ہے
۔ ۔ ۔
نگار و جون و رسا سے ملی ہے داد ِ سخن٭
مجھے اب اِس سے زیادہ کی آرزو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
منافقت کا لبادہ اتار دے عرفان
اب آئینے کے سِوا کوئی روبرو نہیں ہے
۔ ۔ ۔
Labels:
پسندیدہ غزلیں,
عرفان ستار
جس جگہ بولنا واجب ہو ، وہاں بولتا ہے ۔ ۔ ۔ ذوالفقار ذکی
کوئی اس شہر میں الفت سے کہاں بولتا ہے
اب تو ہر شخص ہی نفرت کی زباں بولتا ہے
بحث و تکرار میں رہتا ہے ذکی چپ لیکن
جس جگہ بولنا واجب ہو ، وہاں بولتا ہے
۔ ۔ ۔
Labels:
" ذ ",
پسندیدہ قطعات,
ذوالفقار ارشد ذکی
ہر ایک لڑکی کتابی دکھائی دیتی ہے ۔ ۔ ۔ عزیز فیصل
نظر میں کوئی خرابی دکھائی دیتی ہے
گرین ٹی بھی گلابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
بڑھا چڑھا کے کسی کی بھی کیا کرے تعریف
وہ جس کو دیگ، رکابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
بکاؤ لوگ جو بیٹھے ہیں بزم جاناں میں
مرے رقیب کی لابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
منشیات کا تم پر نہ کیس بن جائے
تمھاری آنکھ شرابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
مزاج ِ عشق میں رنگین کس قدر ہو گا
وہ جس کی وگ بھی خضابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
مریدنی کے سراپے پہ گاڑھتا ہے نظر
یہ ڈبہ پیر کی ''ہابی'' دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
بنا ہوا ہے پڑھاکو مرا'' نمازی'' شہر
ہر ایک لڑکی کتابی دکھائی دیتی ہے
۔ ۔ ۔
Labels:
ڈاکٹر عزیز فیصل,
طنز و مزاح
شب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں ۔ ۔ مصطفی زیدی
لاکھ لہروں سے اٹھا ہے مری فطرت کا خمیر
لاکھ قلزم مرے سینے میں رواں رہتے ہیں
دن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیں
شب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں
۔ ۔ ۔
Labels:
" ل ",
پسندیدہ قطعات,
مصطفی زیدی،
منگل، 24 اپریل، 2018
وہ انتقام کی آتش تھی میرے سینے میں ۔ ۔ ۔ جمال احسانی
وہ انتقام کی آتش تھی میرے سینے میں
ملا نہ کوئی تو خود کو پچھاڑ آیا ہوں
میں اس جہان کی قسمت بدلنے نکلا تھا
اور اپنے ہاتھ کا لکھا ہی پھاڑ آیا ہوں
- - -
Labels:
" و ",
پسندیدہ قطعات,
جمال احسانی
پیر، 11 دسمبر، 2017
اے میرے سارے لوگو! ۔ ۔ احمد فراز
اے میرے سارے لوگو!
اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو
اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی
اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو
اس سے پہلے مری شہ رگ کا لہو چاٹ چکی
پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں
پھر مرے شہر میں بارُود کی بُو پھیلی ہے
پھر سے "تُو کون ہے میں کون ہوں" آپس میں سوال
پھر وہی سوچ میانِ من و تُو پھیلی ہے
مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر ہوئیں عام وہی اہلِ ریا کی باتیں
نعرۂ حُبِّ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں
اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبحِ وحشت کی طرح شامِ غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح
پھر کہاں ہیں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دیے
پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا
صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
مرمریں ہاتھوں پہ جل بُجھ گیا انگارِ حنا
دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا
مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دونیم
نوکِ دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر
آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی
میرے دلگیر مرے درد کے مارے لوگو
کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو
- - -
Labels:
احمد فراز,
پسندیدہ غزلیں









