ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

تنگ آجاتے ہیں دریا جو کوہستانوں میں ۔ ۔ احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی اردو لفظ شاعری

تنگ آجاتے ہیں دریا جو کوہستانوں میں !

سانس لینے کو نِکل جاتے ہیں میدانوں میں
---
خیر ہو دشت نوردانِ محبّت کی، کہ اب !

شہر بستے چلے جاتے ہیں بیابانوں میں
---
مال چُوری کا، جو تقسیم کیا چُوروں نے !

نِصف تو بَٹ گیا بستی کے نِگہبانوں میں
---
کون تاریخ کے اِس صِدق کو جُھٹلائے گا

خیر و شر دونوں مقیّد رہے زِندانوں میں
---
جُستجُو کا کوئی انجام تو ظاہر ہو، ندیؔم !

اِک مُسلماں تو نظر آئے، مُسلمانوں میں
---

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔