اتوار، 26 نومبر، 2017

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
۔ ۔ ۔

ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر
۔ ۔ ۔

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے

کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
۔ ۔ ۔

اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ

ہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کفن کے پاؤں
۔ ۔ ۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
۔ ۔ ۔

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی
۔ ۔ ۔ 

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
۔ ۔ ۔

ابن مریم ہوا کرے کوئی ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
۔ ۔ ۔

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ

کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
۔ ۔ ۔

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ۔ ۔ مرزا غالب

Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
۔ ۔ ۔