میرے پیار کا قصہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند
تو کس دھن میں غلطاں پیچاں کس نشے میں چور ہے چاند
---
تیری خندہ پیشانی میں کب تک فرق نہ آئے گا
تو صدیوں سے اہل زمیں کی خدمت پر مامور ہے چاند
---
اہل نظر ہنس ہنس کر تجھ کو ماہ کامل کہتے ہیں!
تیرے دل کا داغ تجھی پر طنز ہے اور بھرپور ہے چاند
---
تیرے رخ پر زردی چھائی میں اب تک مایوس نہیں
تیری منزل پاس آ پہنچی میری منزل دور ہے چاند
---
کوئی نہیں ہم راز تمنا کوئی نہیں دم ساز سفر
راہ وفا میں تنہا تنہا چلنے پر مجبور ہے چاند
---
عشق ہے اور کانٹوں کا بستر حسن ہے اور پھولوں کی سیج
تجھ کو کیسے سمجھاؤں یہ دنیا کا دستور ہے چاند
---
تیری تابش سے روشن ہیں گل بھی اور ویرانے بھی
کیا تو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند



