حضرت شیخ سعدی شیرازی
حضرت پیران پیر کی دعا
حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں لوگوں نے پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حرم کعبہ میں اس حالت میں دیکھا کہ آپ نے اپنا مبارک چہرہ فرش خاک پر رکھا ہوا تھا اور گریہ و زاری کرتے ہوئے یہ فرما رہے تھے:
ارے اللہ مجھے بخش دے اور اگر میں بخش دیے جانے کے قابل نہیں ہوں تو قیامت کے دن مجھے اندھا اٹھا تا کہ میں اس احساس سے شرمندہ نہ ہوں کہ نیک لوگ مجھے اس حالت میں دیکھ رہے ہیں۔
میں فرش خاک پر منھ رکھ کے تجھ سے عرض کرتا ہوں
نسیم صبح جب گلشن میں کلیوں کو جگاتی ہے
مرے معبود میں رہتا ہوں تیری یاد میں ہر دم
تجھے بھی اپنے عاجز، بے نوا کی یاد آتی ہے ؟
وضاحت
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں رب ذو الجلال کی شان اورمسئلہ توحید بیان کیا ہے۔ حکایت سے پتا چلتا ہے کہ حضرت پیران پیر جیسے عظیم بزرگ اللہ پاک کی بے نیازی سے لرزاں رہتے تھے اور نہایت عاجزی سے عرض کرتے تھے کہ قیامت کے دن ان کی بخشش ہو جائے ایسی صورت میں یہ بات دانائی کے مطابق نہیں ہے کہ ہم جیسے گنہگار بندے اللہ کے غضب سے بے پروا ہو جائیں یا حقیقی مالک اور خالق کو چھوڑ کر کسی اور آستانے پر سر جھکائیں۔
٭٭٭

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔