حضرت شیخ سعدی شیرازی
بُروں سے اچھا سلُوک
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شب ایک چور ایک نیک لیکن غریب شخص کے گھر میں داخل ہو گیا۔ اس نے ادھر ادھر بہت ہاتھ مارے لیکن وہاں کچھ ہوتا تو اسے ملتا اِتفاق سے اس دوران میں نیک مرد بھی جاگ گیا اور آہٹ کی آواز سن کر سمجھ گیا کہ گھر میں چور گھسا ہوا ہے اور وہ میرے گھر سے خالی ہاتھ جائے گا۔ اس نے جلد سے وہ کمبل اتارا جو خود اوڑھے ہوئے تھا اور چور کے راستے میں پھینک دیا۔
سچ ہے اللہ والوں کے دلوں میں اپنے دشمنوں کے لیے بھی خیرخواہی کا جذبہ ہوتا ہے وہ کسی کو بھی رنجیدہ کرنا نہیں چاہتے۔
سنا ہے خدا کے جو بن جائیں دوست
وہ کرتے نہیں دشمنوں کو بھی تنگ
کمینے کو کیسے ملے یہ مقام
کہ وہ دوستوں سے بھی کرتا ہے جنگ
وضاحت
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں احسان کی طرف توجہ دلائی ہے۔ احسان کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے ساتھ اس کے حق سے زیادہ سلوک کیا جائے۔ مثال کے طور پر یہ حسن سلوک ہے کہ اگر کوئی شخص قصور کرے تو اسے معاف کر دیا جائے۔ لیکن اگر معاف کر نے کے علاوہ اسے کچھ دے بھی دیا جائے تو یہ احسان ہو گا اور محسنین ہو گا اس کا بہت بڑا درجہ ہے۔
٭٭٭

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔